انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 227

انوار العلوم جلد کا ۲۲۷ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں میں شامل ہوئے اُن کے مقابلہ میں مسلمان ہمیں نصف ہی ایسے لوگ دکھا دیں جنہوں نے ان کے ہاتھ پر شرک اور کفر سے توبہ کی ہو ، جنہوں نے ان کے ہاتھ پر اسلام اور قرآن کی صداقت کا اعتراف کیا ہو۔پھر میرے ذریعہ بیرونی ممالک میں صرف احمد یہ مشن ہی قائم نہیں ہوئے بلکہ کئی ایسے ممالک ہیں جہاں میرے زمانہ خلافت میں خود بخو داحمدیت کا نام پہنچ گیا اور خدا تعالیٰ نے غیب سے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ ایسے ممالک میں جن کا ہمیں علم تک نہیں تھا تبلیغ کے رستے کھل گئے اور وہاں کے رہنے والے آپ ہی آپ ہمارے سلسلہ میں شامل ہو گئے۔چنانچہ سعد پاشا جو گردوں کے لیڈر تھے اُنہوں نے ایک بیان میں اقرار کیا کہ میں احمدی ہوں حالانکہ ہمیں کچھ علم نہ تھا کہ وہ احمدیت اختیار کر چکے ہیں۔گر د قوم نے مصطفیٰ کمال کے زمانہ میں ترکی حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی جس کے نتیجہ کے طور پر جنرل سعد پاشا جو کر د قوم کے لیڈر تھے گرفتار کر لئے گئے اور اُن کا کورٹ مارشل کیا گیا ہے۔اُنہوں نے گرفتاری کے بعد جو بیان دیا وہ ترکی اخبارات میں شائع ہوا اور وہاں سے بعض مصری اخبارات نے نقل کیا جس سے ہمیں اُن کے حالات کا پتہ مل گیا۔اُن سے پوچھا گیا کہ ترکی حکومت جو اسلامی حکومت ہے اُس کے خلاف اُنہوں نے کیوں بغاوت کی ؟ کر دلیڈر نے جواب دیا کہ گومیری قوم سیاستاً ترکوں سے الگ ہونا چاہتی تھی مگر مجھے سیاسیات سے کوئی تعلق نہ تھا بلکہ بعض مذہبی رسائل پڑھ کر میں دل سے جماعت احمدیہ میں شامل ہو چکا تھا جس کا مرکز قادیان ہے اور میں نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں اب قادیان چلا جاؤں گا اور اپنی بقیہ عمر اسی جگہ گزار دوں گا کیونکہ مجھے یہ یقین ہو گیا ہے کہ اسلام کی آئندہ فتح تلوار سے نہیں بلکہ تبلیغ سے ہوگی پس میں چاہتا تھا کہ اپنی زندگی اسلام کے لئے وقف کردوں اور اپنی جائداد وغیرہ فروخت کر کے قادیان چلا جاؤں۔اسی دوران میں میں نے چند ترک سپاہیوں کو دیکھا کہ وہ گر دلڑکیوں کی ہتک کر رہے ہیں۔میں نے انہیں سمجھایا کہ ایسا مت کرو۔اِس پر اُن میں سے ایک نے مجھے مارا۔یہ دیکھ کر مجھے جوش آ گیا اور میں نے اپنا پستول نکال کر اُن میں سے ایک کو قتل کر دیا۔ایسی صورت میں مجبور ہو کر مجھے باغیوں سے ملنا پڑا اور اُنہوں نے مجھے اپنا لیڈر بنالیا۔