انوارالعلوم (جلد 17) — Page xxiv
انوار العلوم جلد کا ۱۷ تعارف کتب نیز فرمایا کہ ہمیں کامل یقین ہے کہ احمدیت کے بیج سے ایک ایسا تناور درخت پیدا ہونے والا ہے جس کے سایہ تلے تمام دنیا آرام کرے گی۔حضور نے اپنے اس خطاب میں طلباء کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ:۔”ہمارا مقصد یہ ہے کہ جولڑ کے ہمارے ہاں تعلیم پائیں وہ تعلیم میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں ، وہ تربیت میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں ، وہ اخلاق فاضلہ میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں تو یقیناً وہ اِن آن گھڑے جواہرات کو قیمتی ہیروں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اخلاص اور تقویٰ اور خدا تعالیٰ کا خوف اپنے دلوں میں پیدا کریں اور لڑکوں کی تعلیمی حالت بھی بہتر بنائیں ، ان کی اخلاقی حالت بھی بہتر بنا ئیں اور ان کی مذہبی حالت بھی بہتر بنائیں“۔حضور نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔طلباء کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے افسروں کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کریں۔۔۔اور ان افسروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے سے بڑے افسروں کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کریں۔(۱۴) غزوہ حنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے یہ روح پرور تقریر مؤرخہ ۱۶ / جون ۱۹۴۴ء کو مجاہد تحریک جدید چوہدری احسان الہی جنجوعہ مبلغ مغربی افریقہ کے اعزاز میں دیئے گئے عصرانہ کے موقع پر ارشاد فرمائی جس کا اہتمام مجاہدین تحریک جدید کی طرف سے کیا گیا۔حضور نے اس خطاب میں صحابہ کرام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق و وفا کے واقعات بیان فرمائے اور صحابہ کی قربانیوں کا روح پرور تذکرہ فرمایا با لخصوص غزوہ حنین کے موقع پر صحابه رضوان اللہ علیہم اجمعین کے صدق و وفا کے کار ہائے نمایاں بیان کرتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک کو وہی نمونہ دکھانے کی تلقین فرمائی آپ نے فرمایا:۔