انوارالعلوم (جلد 17) — Page xxiii
انوار العلوم جلد کا ۱۶ تعارف کتب افتتاح کے موقع پر مؤرخہ ۴ جون ۱۹۴۴ء کو ارشاد فرمایا۔اس خطاب میں حضور نے کالج کے قیام کے اغراض و مقاصد بیان فرمائے اور کالج کے پروفیسروں کو انکی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے کالج کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔یہ تقریب جو تعلیم الاسلام کالج کے افتتاح کی ہے اپنے اندر دو گونہ مقاصد رکھتی ہے۔ایک مقصد تو اشاعت تعلیم ہے جس کے بغیر تمدنی اور اقتصادی حالت کسی جماعت کی درست نہیں رہ سکتی۔۔۔دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ آجکل کی تعلیم بہت سا اثر مذہب پر بھی ڈالتی ہے۔۔۔اس لئے ہمارے کالج کے قیام کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ مذہب پر جو اعتراضات مختلف علوم کے ذریعہ کئے جاتے ہیں اُن کا انہی علوم کے ذریعہ رد کیا جائے۔کالج کے پروفیسروں کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔پس جہاں دوسرے پروفیسروں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ ان اعتراضات کو زیادہ سے زیادہ قوی کرتے چلے جائیں وہاں ہمارے پروفیسروں کی غرض یہ ہوگی کہ وہ ان اعتراضات کا زیادہ سے زیادہ رڈ کرتے چلے جائیں۔“ حضور نے کالج کے منتظمین اور عملہ کو بھی بعض ہدایات فرمائیں کہ اس کالج میں داخلہ لینے والے کسی بھی غیر مذاہب کے طالبعلم کیلئے کوئی روک پیدا نہ ہو جس کے نتیجہ میں وہ اس کالج کی تعلیم سے فائدہ حاصل نہ کر سکیں۔نیز کالج سے منتظمین کو یہ ہدایت فرمائی کہ:۔”وہ کالج کے پروفیسروں کے ایسے ادارے بنائیں جو ان مختلف قسم کے اعتراضات کو جو مختلف علوم کے ماتحت اسلام پر کئے جاتے ہیں جمع کریں اور اپنے طور پر اُن کو رڈ کرنے کی کوشش کریں اور ایسے رنگ میں تحقیقات کریں کہ نہ صرف عقلی اور مذہبی طور پر وہ ان اعتراضات کو رد کر سکیں بلکہ خود اُن علوم سے ہی وہ اُن کی تردید کر دیں۔66 حضور نے بڑی تحدی سے دعوی فرمایا کہ:۔اس امر کو یا درکھو کہ تمام نئے علوم اور نئی تحقیقا تیں اسلام کی مؤید ہیں“۔