انوارالعلوم (جلد 17) — Page 191
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۹۱ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں وہ تو کہتے ہیں کہ والد صاحب یونہی بے فائدہ فکر کر رہے ہیں میں نے تو جس کی نوکری کرنی تھی کر لی اب میں کسی اور کی نوکری کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔اس پر وہ کہتے ہیں کہ آپ کے دادا صاحب نے کہا اگر اس نے یہ کہا ہے تو خیر رہنے دو وہ جھوٹ نہیں بولا کرتا۔پھر جب آپ بڑے ہوئے تو اُس وقت بھی ساری جائداد آپ کے بھائی کے قبضہ میں رہی۔آپ نے اُس میں سے اپنا حصہ نہ لیا۔جائداد خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی تھی بلکہ اب تک اس قدر جائداد ہے کہ باوجود اس کے کہ ایک لمبے عرصے تک ہم اس کو بیچ کر کھاتے رہے ہیں ، پھر بھی وہ لاکھوں روپیہ کی موجود ہے۔غرض جائداد تھی مگر وہ سب ہمارے تایا صاحب کے قبضہ میں تھی۔بانی سلسلہ احمدیہ اس جائداد میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔جب ہمارے تایا صاحب فوت ہو گئے تو آپ نے پھر بھی جائداد نہ لی اور وہ تائی صاحبہ کے پاس چلی گئی۔آپ کو کھانا ہماری تائی صاحبہ ہی بھجواتی تھیں اور چونکہ وہ آپ کی شدید مخالف تھیں ادھر آپ بہت بڑے مہمان نواز تھے اس لئے بسا اوقات جب آپ ہماری تائی صاحبہ کو کہلا بھیجتے کہ آج ایک مہمان آیا ہوا ہے اُس کے لئے بھی کھانا بھیجوا دیا جائے تو وہ صرف آپ کا کھانا بھجوا دیتیں اور مہمان کے لئے کوئی کھانا نہ بھجواتیں۔اس پر ہمیشہ آپ اپنا کھانا مہمان کو کھلا دیتے اور خود چنوں پر گزارہ کر لیتے۔اُس زمانہ کے آدمی سنایا کرتے ہیں کہ جب بھی کوئی مہمان آپ کے پاس آتا آپ چپ کر کے اپنا کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیتے اور خود بھوکے رہتے یا چنوں وغیرہ پر گزارہ کر لیتے۔ایک شخص نے سنایا کہ میں ایک دفعہ قریباً چالیس دن تک آپ کا مہمان رہا۔آپ با قاعده صبح و شام اندر سے جو کھانا آتا وہ مجھے کھلا دیتے اور آپ دانے چبا کر گزراہ کر لیتے۔آپ خود فرماتے ہیں۔لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكُلِي وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الَّا هَالِي !! کہ اے لوگو! تم کو یاد نہیں ایک دن میرا یہ حال تھا کہ دستر خوانوں کے بچے ہوئے ٹکڑے میرے کھانے میں آیا کرتے تھے یعنی دوسروں کے رحم و کرم پر میرا گزارہ تھا لیکن آج یہ حال ہے کہ