انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxi of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page xxi

انوار العلوم جلد کا ۱۴ (۱۱) زندگی وقف کرنے کی تحریک تعارف کتب حضرت میر محمد اسحق صاحب کی المناک وفات کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے سید نا حضرت مصلح موعود کی توجہ اس طرف مبذول فرمائی کہ جماعت میں جلد سے جلد علماء اور علوم اسلامیہ کے ماہرین پیدا کرنے ضروری ہیں تا وہ پہلے بزرگوں کے قائمقام ہوسکیں اور جماعت کیلئے من حیث الجماعت اپنے علمی مقام سے گرنے کا امکان باقی نہ رہے۔چنانچہ حضور نے مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء کے دوران تقریر کرتے ہوئے حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب بھیروی، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ، حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی ، حضرت قاضی امیر حسین صاحب اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کیلئے نو جوانوں کو زندگی وقف کرنے کی تحریک فرمائی جس کے نتیجہ میں بہت سارے نوجوانوں نے حضور کی اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے اپنی زندگیاں وقف کیں۔بعد ازاں سید نا حضرت مصلح موعود نے یکم مئی ۱۹۴۴ ء کو جماعت کے سامنے رضا کارانہ طور دو پر تبلیغ کرنے والوں کو اپنے آپ کو پیش کرنے کی تحریک فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ:۔دنیا میں تبلیغ کرنے کے لئے ہمیں ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مبلغ کہاں سے آئیں اور ان کے اخراجات کون برداشت کرے؟ میں نے بہت سوچا ہے مگر بڑے غور و فکر کے بعد میں سوائے اس کے اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا کہ جب تک وہی طریق اختیار نہیں کیا جائے گا جو پہلے زمانوں میں اختیار کیا گیا تھا اُس وقت تک ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔۔۔حضرت مسیح ناصری نے اپنے حواریوں سے کہا کہ تم دنیا میں نکل جاؤ اور تبلیغ کرو۔جب رات کا وقت آئے تو جس بستی میں تمہیں ٹھہرنا پڑے اُسی بستی کے رہنے والوں سے کھانا کھاؤ اور پھر آگے چل دو۔اگر ہماری جماعت کے دوست بھی اسی طرح کریں کہ وہ گھروں سے تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوں۔ایک ایک گاؤں اور ایک ایک بستی اور ایک ایک شہر میں تین تین