انوارالعلوم (جلد 17) — Page 164
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۶۴ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان والی ہے۔یا تو شیطان کی طرف سے اسلام پر کوئی شدید حملہ ہونے والا ہے جس کے دفاع کے لئے ہر شخص کو اپنی جان اور اپنا مال قربان کر دینا پڑے گا یا پھر اسلام کی طرف سے عنقریب غیر اسلامی دنیا پر کوئی ایسا شدید حملہ ہونے والا ہے جس میں ہر شخص کو اپنی جان اور اپنا مال قربان کر دینا پڑے گا۔دونوں صورتیں ایسی ہی جن میں قربانی کرنی پڑے گی ، دونوں صورتیں ایسی ہیں جن میں اپنی جانوں اور مالوں کو ایک حقیر چیز کی طرح خدا کی راہ میں پیش کرنا پڑے گا۔پس ہر احمدی جو آج اس مجمع میں موجود ہے اُسے سمجھ لینا چاہئے کہ اب دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہو کر رہنے والی ہے یا تو کفر کا اسلام پہ کوئی نیا حملہ ہونے والا ہے اور یا پھر اسلام کا کفر کے قلعہ پر حملہ ہونے والا ہے۔بیشک آپ لوگوں نے پہلے بھی قربانیاں کی ہیں مگر آئندہ آنے والی قربانیوں کے مقابلہ میں وہ قربانیاں بالکل بیچ ہو جائیں گی اور وہی شخص اس امتحان میں کامیاب اُترے گا جو اپنی جان اور اپنے مال ، اپنی بیوی اور اپنے بچوں کی قربانی کرنے میں ایک لمحہ کیلئے ا بھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لے گا۔وہ ابراہیم کی طرح آگے بڑھے گا اور جس طرح ابراہیم نے خدا کے حکم کے ماتحت اپنے اکلوتے بچہ کے گلے پر چھری رکھ دی تھی اسی طرح وہ اپنی ہر خواہش ، اپنی ہر عزت ، اپنی ہر دولت اور اپنے ہر آرام پر چھری پھیر کر لبیک کہتا ہوا اللہ تعالی کی آواز کی طرف دوڑے گا۔اُس کی روح آستانہ الہی پر گر جائے گی اُس کا دل ایمان سے پُر ہوگا اور وہ اپنی ہر چیز کو حقیر اور ذلیل سمجھتے ہوئے خدا تعالیٰ کے لئے قربان کر دے گا۔اُس کی آنکھوں میں سوائے خدا کے اور کسی کا جلوہ نظر نہیں آئے گا۔اُس کے دل پر سوائے خدا کے اور کسی کی حکومت نہیں ہوگی اور اُس کے کانوں میں سوائے اُس کے مامور اور مرسل کی آواز کے اور کسی کی آواز نہیں آئے گی وہ ایک فرض شناس سپاہی کی طرح کفر کے مقابلہ کے لئے نکلے گا اور اُس وقت تک واپس نہیں آئے گا جب تک کفر کو مٹا نہیں لیتا یا اس جدو جہد میں اپنے آپ کو ہلاک نہیں کر دیتا۔پس میں نے آج وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر عائد کی گئی تھی ادا کر دی۔میں نے جماعت پر بھی حجت کر دی اور میں نے ہوشیار پور کے رہنے والوں کو بتا دیا کہ خدا نے اس مقام کو ایک بہت بڑی عزت بخشی ہے۔اس مقام سے اُس نشان کا اعلان ہوا