انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 163

انوار العلوم جلد کا ۱۶۳ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان پیشگوئی کے اکثر حصے پورے ہو چکے ہیں صرف تھوڑی سی باتیں ہیں جن کے لئے ابھی کچھ اور انتظار کرنا پڑے گا۔بہر حال یہ ایک ایسا عظیم الشان آسمانی نشان ہے جس کو دیکھتے ہوئے مومنوں کے دل اس یقین اور ایمان سے بھر جاتے ہیں کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے۔میں جماعت کے احباب کو خصوصیت سے اس موقع پر توجہ دلاتا ہوں کہ اس نشان کے بعد آپ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ جس شخص کے ہاتھ پر آپ لوگوں نے بیعت کی ہے اُس کا یہ فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ خدا کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرے۔پس آپ لوگوں پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہو گئی ہے۔آپ کا کام یہ ہے کہ اُس وقت تک آرام کا سانس نہ لیں جب تک خدا کی با دشاہت اسی طرح زمین پر نہیں آجاتی جس طرح وہ آسمان پر ہے اور جو لوگ ابھی ہماری جماعت میں شامل نہیں ہیں اُن سے کہتا ہوں کہ کب تک انتظار کرتے چلے جاؤ گے؟ جو آنے والا تھا آ گیا اب اس کے بعد کوئی نہیں جو تمہاری امیدوں کے مطابق آسمان سے اُترے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے کہ چاہے قیامت تک تم ناک رگڑتے رہو تمہارا مسیح آسمان سے نہیں اُتر سکتا جس نے آنا تھا وہ آچکا ہے اسی طرح میں کہتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس مثیل اور نظیر نے آپ کی پیشگوئی کے مطابق دنیا میں آنا تھا وہ آچکا ہے اب چاہے قیامت تک انتظار کرتے رہو اور کوئی شخص اس پیشگوئی کا مصداق پیدا نہیں ہوسکتا۔پس ہماری جماعت کو اس مقام پر جمع ہو کر اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہئے۔یہ مکان جو سامنے دکھائی دے رہا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چالیس روز تک چلہ کشی کی اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں اُس زمانہ میں شہر کے ایک کنارہ پر ہوا کرتا تھا۔مگر اب شہر کی آبادی میں ترقی ہو چکی ہے اور اس کے اردگر د بھی کئی عمارتیں بن گئی ہیں یہاں خدا نے ایک عظیم الشان نشان کی بشارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عطا فرمائی جس کو اٹھاون سال کے بعد ہماری جماعت نے پورا ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔یہ ایک نشان ہے اور بہت بڑا نشان۔اگر ہماری جماعت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ یہ نشان خدا نے ظاہر فرمایا ہے تو جماعت کو اس امر کا بھی یقین کر لینا چاہئے کہ اب دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہونے