انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 158

۱۵۸ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان انوار العلوم جلد ۱۷ کیا ہے کہ میں نہیں سمجھتا دنیا کا کوئی شخص دیانتداری سے غور کرنے کے بعد یہ کہہ سکے کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔اُسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ خدا کی پیشگوئی ہے۔اُسی خدا کی جو عالم الغیب ہے جس کے قبضہ و تصرف میں زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ ہے۔پس یہ ایک بہت بڑا نشان ہے جو خدا نے ظاہر کیا۔میں اس نشان کو پیش کرتے ہوئے ان لوگوں سے جو اس وقت یہاں جمع ہیں کہتا ہوں کہ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ آپ لوگ خدا کے اس نشان پر غور کریں اور اس سے فائدہ اُٹھا ئیں؟ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ آپ لوگ خدا تعالیٰ کے ان زور آور حملوں کو دیکھنے کے بعد اُس کے مامور کو قبول کریں تا کہ دنیا میں امن اور آشتی پیدا ہو اور صلح کا دور دورہ ہو؟ یا درکھو! جب تک خدا کے بھیجے ہوئے مامور کی راہنمائی کو دنیا قبول نہیں کرتی اُس وقت تک اسے کبھی امن حاصل نہیں ہو سکتا چاہے وہ کتنا زور لگا لے اور چاہے کتنا ہی امن کے حصول کے لئے جد و جہد کرلے۔دنیا کے لئے ایک ہی ذریعہ امن حاصل کرنے کا ہے کہ وہ اس درخت کے سایہ کے نیچے آجائے جو خدا نے لگایا ہے۔جب تک وہ اس درخت کے سایہ کے نیچے نہیں آتی اُس وقت تک اُسے کبھی حقیقی امن اور اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا۔میں نے بتایا ہے کہ یہ پیشگوئی صرف ایک پیشگوئی نہیں بلکہ اس میں اتنی کثیر خبر میں جمع ہیں کہ کسی انسان کی طاقت میں نہیں تھا کہ وہ ایسی خبریں دے سکتا۔دنیا میں کون کہہ سکتا ہے کہ میرے ہاں بیٹا پیدا ہوگا ، وہ 9 سال کے عرصہ میں پیدا ہوگا، وہ زندہ رہے گا، وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا، وہ رحمت اور فضل کا نشان ہوگا، تو میں اُس سے برکت پائیں گی، اسیر اُس سے رستگار ہوں گے اور دین اسلام کا شرف اُس کے ذریعہ ظاہر ہوگا۔یہ تمام امور ایک ایک کر کے اس بات کی شہادت پیش کر رہے ہیں کہ یہ پیشگوئی خدا کی طرف سے تھی۔پھر اسی قدر نہیں اس پیشگوئی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور بھی بہت سی باتیں بتائی گئی تھیں چنانچہ وہ باتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پیشگوئی میں بتائی گئی ہیں وہ یہ ہیں۔اول یہ بتایا گیا تھا کہ وہ لڑکا خدا تعالیٰ کی قدرت کا نشان ہوگا یعنی وہ زندہ رکھا جائے گا تا کہ اُس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا کلام پورا ہو۔دوسرے وہ رحمت کا نشان ہوگا۔یعنی اس کے ظہور سے احمدیت کی ترقی ہوگی اور مخالفین اسلام