انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 156

انوار العلوم جلد کا ۱۵۶ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان ہوشیار میں سامنے والے مکان میں نازل ہوئی جس کا اعلان آپ نے اس شہر سے فرمایا اور جس کے متعلق فرمایا کہ وہ 9 سال کے عرصہ میں پیدا ہوگا وہ پیشگوئی میرے ذریعہ سے پوری ہو چکی ہے اور اب کوئی نہیں جو اس پیشگوئی کا مصداق ہو سکے۔یہ پیشگوئی کسی بعد کے زمانہ کے لئے نہیں تھی بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے تحریر فرمایا اس زمانہ کے لوگوں کے ایمان کی زیادتی کے لئے یہ پیشگوئی کی گئی تھی۔پس ضروری تھا کہ یہ پیشگوئی اسی زمانہ میں پوری ہوتی اور ان لوگوں کے سامنے پوری ہوتی جن کے سامنے یہ شائع کی گئی تھی۔ہم میں ابھی سینکڑوں وہ لوگ زندہ موجود ہیں جنہوں نے اپنے سامنے اس اشتہار کو شائع ہوتے دیکھا اور پڑھا۔اُنہوں نے وہ تمام مخالفتیں دیکھیں جو پیشگوئی کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ہوئیں اور پھر انہوں نے اس پیشگوئی کی اکثر علامات کو پورا ہوتے دیکھا۔پس آج ہم اس جگہ پر اس لئے جمع ہوئے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کریں جس نے ایک گمنام شخص کو ایسے گمنام شخص کو ، جو گھر میں بھی پہنچانا نہیں جاتا تھا دنیا کے کونے کونے تک مشہور کر دیا۔آپ ایسی گمنامی کی حالت میں دعا کرتے تھے کہ بعض دفعہ جب دُور کے رشتہ دار آتے تو وہ سجدہ میں آپ کو بیٹھا دیکھ کر یہ خیال کیا کرتے تھے کہ کوئی ملاں بیٹھا ہے، بعض دفعہ آپ پر ایسی ایسی حالت بھی گزر جاتی کہ خود فاقہ کرنا پڑتا اور اپنا کھانا کسی مہمان کو کھلا دینا پڑتا۔چونکہ ہماری جدی جائداد پر تایا صاحب کا قبضہ تھا اس لئے ہماری تائی صاحبہ بعض دفعہ اس غصہ میں کہ وہ کوئی کام نہیں کرتے انہیں کھانا بھی نہیں بھجواتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ خود سنایا کہ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ جب کوئی میرے پاس مہمان آتا اور میں کھانے کیلئے اُن کو کہلا بھیجتا تو وہ کہ دیتیں کہ ہمارے پاس مہمان کے لئے کوئی کھانا نہیں۔اس پر چپ کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنا کھانا مہمان کو کھلا دیتے اور خود بھوکے رہتے۔ایک شخص نے سنایا کہ میں ایک لمبے عرصہ تک آپ کے پاس مہمان رہا آپ کا طریق یہ تھا کہ اپنے لئے جو کھانا آتا وہ مجھے کھلا دیتے اور خود چنے بھنوا کر اُن پر گزارہ کرتے۔آپ اپنے اشعار میں بھی فرماتے ہیں۔