انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xviii of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page xviii

انوار العلوم جلد کا تعارف کتب ایڈووکیٹ کے مکان میں یہ خبر دی کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اور میں ہی وہ مصلح موعود ہوں جس کے ذریعہ اسلام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا اور توحید دنیا میں قائم ہوگی۔(۹) حضرت میر محمد الحق صاحب کی وفات پر تقریر حضرت اُمّم طاہر کی دردناک وفات کا زخم ابھی تازہ ہی تھا کہ مؤرخہ ۱۷ مارچ ۱۹۴۴ ء کو جماعت احمدیہ کے فقید المثال محدث اور عظیم المرتبت منتظم حضرت میر محمد الحق صاحب کی وفات کا صدمہ احباب جماعت کو برداشت کرنا پڑا۔مؤرخہ ۷ار مارچ کو نماز مغرب وعشاء کے مابین حضرت میر صاحب کی وفات ہوئی اور نماز مغرب وعشاء پڑھانے کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے یہ تقریر ارشاد فرمائی۔حضور نے یہ تقریر اس رفت اور سوز سے فرمائی کہ حضور کی آواز رُک رُک جاتی تھی اور سننے والوں کی چیچنیں نکل رہی تھیں۔تقریر کے بعد حضور نے نہایت خشوع و خضوع سے دعا کروائی۔اس تقریر میں حضور نے حضرت میر محمد الحق صاحب کے نمایاں اوصاف حمیدہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔" میر محمد اسحاق صاحب خدمات سلسلہ کے لحاظ سے غیر معمولی وجود تھے۔در حقیقت میرے بعد علمی لحاظ سے جماعت کا فکر اگر کسی کو تھا تو ان کو تھا، رات دن قرآن اور حدیث لوگوں کو پڑھانا ان کا مشغلہ تھا۔وہ زندگی کے آخری دور میں کئی بار موت کے منہ سے بچے۔جلسہ سالانہ پر وہ ایسا اندھا دھند کام کرتے کہ کئی بار اُن پر نمونیا کا حملہ ہوا۔ایسے شخص کی وفات پر طبعا لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اب ہم کیا کریں گے لیکن اگر ہماری جماعت کا ہر شخص ویسا ہی بنے کی کوشش کرتا تو آج یہ احساس نہ پیدا ہوتا “۔اس تقریر میں حضور نے احباب جماعت کو حضرت میر صاحب کی طرح علمی و عملی میدان میں کمال حاصل کرنے کی تلقین فرمائی تا کہ علماء کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا ءساتھ ساتھ پورا ہوتا رہے۔