انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 140

انوار العلوم جلد ۷ ۱۴۰ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان ربنا و اينا مَا وَعَدتَنَا عَلى رُسُلِكَ وَلا تُخْرُنَا يَوْمَ الْقِيمَةِ۔إنك لا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ - - رَبَّنَا لا تُزع قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ - یہ اللہ تعالیٰ کی وہ دعائیں ہیں جن میں انبیاء اور ان کی ابتدائی جماعتوں کے لئے خدا نے ایک طریق راہ بیان فرمایا ہے۔اس کے بعد میں قرآنی الفاظ میں ہی اپنے رب کو مخاطب کر کے اُس کے حضور نذر عقیدت پیش کرتا ہوں۔دوست بھی اِن الفاظ کو دُہراتے جائیں۔امنا باللومَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا اُنْزِلَ إِلَى إِبْرَهِم وَاسْمَعِيلَ وَ اسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَّبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَا مُسْلِمُونَ 2 جیسا کہ آپ لوگوں نے سنا ہے آج سے پورے ۵۸ سال پہلے جس کو آج ۵۹ واں سال شروع ہو رہا ہے ۲۰ فروری کے دن ۱۸۸۶ء میں اِس شہر ہوشیار پور میں اس مکان میں جو کہ میری انگلی کے سامنے ہے ایک ایسے مکان میں جو اُس وقت طویلہ کہلاتا تھا جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ رہائش کا اصلی مقام نہیں تھا بلکہ ایک رئیس کے زائد مکانوں میں سے وہ ایک مکان تھا جس میں شاید اتفاقی طور پر کوئی مہمان ٹھہر جاتا ہو یا وہاں انہوں نے سٹور بنا رکھا ہو یا حسب ضرورت جانور باندھے جاتے ہوں، قادیان کا ایک گمنام شخص جس کو خود قادیان کے لوگ بھی پوری طرح نہیں جانتے تھے ، لوگوں کی اِس مخالفت کو دیکھ کر جو اسلام اور بانی اسلام سے وہ رکھتے تھے اپنے خدا کے حضور علیحدگی میں عبادت کرنے اور اُس کی نصرت اور تائید کا نشان طلب کرنے کے لئے آیا اور چالیس دن لوگوں سے علیحدہ رہ کر اُس نے اپنے خدا سے دعائیں مانگیں۔چالیس دن کی دعاؤں کے بعد خدا نے اُس کو ایک نشان دیا۔وہ نشان یہ تھا کہ میں نہ صرف ان وعدوں کو جو میں نے تمہارے ساتھ کئے ہیں پورا کروں گا اور تمہارے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا بلکہ اس وعدہ کو زیادہ شان کے ساتھ پورا کرنے کے لئے میں تمہیں ایک بیٹا دوں گا جو بعض خاص صفات سے متصف ہو گا۔وہ اسلام کو دنیا کے کناروں تک پھیلائے گا، کلامِ الہی کے