انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 127

۱۲۷ انوار العلوم جلد ۱۷ نے فرمایا جاؤ اور پہلے عورت کو اُٹھاؤ۔۶ غرض عورتوں کے حقوق کی حفاظت اور اُن کے ساتھ نرمی کا سلوک کرنے کے متعلق ہمیں رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ایسا اعلیٰ نمونہ ملتا ہے جس نے دنیا میں عورت کے معیار کو بلند کر دیا ہے۔اسی طرح آپ نے انہیں ورثہ میں حصہ دلایا اور اس طرح اُن کے حقوق کو ہمیشہ کے لئے قائم کر دیا۔اب میں دو تین واقعات آپ کی وفات سے تعلق رکھنے والے بیان کر دیتا ہوں جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ نے اپنی زندگی کی آخری گھڑیوں میں اخلاق فاضلہ کا کیسا شاندار نمونہ دکھایا۔رسول کریم ہے جب فوت ہونے لگے تو آپ نے ایک خطبہ پڑھا جس میں صحابہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا دیکھو! میں تم کو عورتوں کے متعلق خاص طور پر وصیت کرتا ہوں ، اُن کا خیال رکھنا اور اُن پر کبھی سختی نہ کرنا۔1 دوسری طرف آپ کو اپنے خادموں اور شاگردوں سے جو محبت تھی اُس کا نظارہ بھی ہمیں آپ کی ذات میں دکھائی دیتا ہے۔سب لوگ جانتے ہیں کہ تکلیف کی حالت میں لوگ اپنے آرام کا کس قدر فکر رکھتے ہیں مگر رسول کریم ﷺ کی یہ حالت تھی کہ جب آپ کی مرض نے شدت اختیار کر لی اور آپ اس تکلیف کی وجہ سے نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں نہ جا سکتے تھے تو صحابہ جب نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں آتے تو بعض دفعہ یہ خیال کر کے کہ رسول کریم علی بیمار ہیں اور نماز کے لئے نہیں آ سکتے اُن کو اِس قد رصدمہ ہوتا کہ وہ رونے لگ جاتے اور اُن کی چینیں اِس زور سے نکلتیں کہ دُور دُور تک اُن کی آواز سُنائی دیتی۔ایک دفعہ جبکہ رسول کریم علی کو تیز بخار چڑھا ہوا تھا آپ نے اپنی بیوی سے فرمایا پانی کی مشکیں لاؤ اور مجھ پر ڈالو۔چنانچہ آپ ایک لگن میں بیٹھ گئے اور پانی کی سات آٹھ مشکیں آپ نے اپنے جسم پر ڈلوائیں اور ارادہ کیا کہ با ہر نماز کے لئے تشریف لائیں مگر حالت خراب ہوگئی اور آپ تشریف نہ لا سکے۔اس کے بعد جب آپ کو کچھ افاقہ ہوا تو آپ نے پھر اپنے اوپر پانی ڈلوایا اور چاہا کہ نماز کے لئے تشریف لے جائیں مگر آپ پھر بھی تشریف نہ لے جا سکے۔کچھ دیر کے بعد جب پھر آپ نے افاقہ محسوس کیا تو پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا حضور ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔اس پر آپ نے پھر غسل کیا مگر تین دفعہ فنسل