انوارالعلوم (جلد 17) — Page 125
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۲۵ آگے نہ پڑھو اب مجھ سے برداشت نہیں ہوسکتا۔۵۸ عورتوں سے حُسنِ سلوک کی تعلیم چونکہ عورتیں بھی اس وقت تقریرئن رہی ہیں۔اس لئے میں اب عورتوں سے حسن سلوک الله کے متعلق رسول کریم ﷺ کی تعلیم میں سے چند باتیں بیان کر دیتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے حُسنِ سلوک کرنے کے متعلق ایک نہایت ہی لطیف بات بیان فرمائی ہے۔نادان اس پر اعتراض کرتے اور اُسے نَعُوذُ بِاللهِ رسول کریم عل الله کی جہالت قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے کہ اُس سے بہتر ناممکن ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے لوگو! عورتوں سے زیادہ بختی کا معاملہ نہ کیا کرو۔کیونکہ خُلِقنَ مِنْ ضلع ۵۹ وہ پہلی سے پیدا کی گئی ہیں۔اگر تم زیادہ زور دو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی سیدھی نہیں ہو سکے گی۔نادان دشمن اعتراض کرتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے عورت کو پسلی سے پیدا شدہ قرار دیا ہے اور یہ امر واقعات کے بالکل خلاف ہے۔حالانکہ خُلِقَ مِنْ فُلانٍ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے اور اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ فلاں مادہ اُس میں رکھا گیا ہے۔پس خُلِقَنَ مِنْ ضلع کے یہ معنی نہیں کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ عورت پسلی کی شکل میں پیدا کی گی ہے۔اب دیکھ لو پسلی کی شکل میں عورت کو پیدا کرنا کتنا لطیف استعارہ بن جاتا ہے۔انسانی جسم میں پسلیاں ہی ایک ایسی چیز ہیں جو دل کی طرف منہ کر کے جھکی ہوئی ہوتی ہیں اور پھر وہ جسم میں ایک علیحدہ حصہ بھی نظر آتی ہیں۔پس خُلِقَنَ مِنْ ضِلْعِ میں رسول کریم نے عورت کے ساتھ انسان کے تعلق کی مثال بیان فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ تم عورت سے تعلق رکھتے وقت پہلی کی مثال کو اپنے سامنے رکھا کرو۔پہلی اگر ایک طرف پوری طرح جھلکی ہوئی ہوتی ہے اور اُس کا رُخ انسانی قلب کی طرف ہوتا ہے تو دوسری طرف وہ جسم میں ایک علیحدہ وجود بھی نظر آتی ہے۔گویا ایک ہی وقت میں دونوں باتیں اُس میں دکھائی دیتی ہیں۔وہ جسم کے ساتھ بھی پیوست ہوتی ہے اور اس کا ہر حصہ علیحدہ علیحدہ بھی نظر آتا ہے۔پس در حقیقت اس مثال میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد اور عورت کے تعلقات کا ذکر کیا ہے اور صلى الله