انوارالعلوم (جلد 17) — Page 122
صلى الله ۱۲۲ انوار العلوم جلد ۱۷ نام قیس تھا بلا یا اور کہا تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ اور آپ کو اپنے گھر چھوڑ آؤ۔جب رسول کریم ﷺ باہر نکلے تو آپ نے اُس سے فرمایا قیس ! یہ تو بُرا لگتا ہے کہ میں سواری پر بیٹھوں اور تم میرے ساتھ پیدل چلو۔اُس نے کہا یار سُوْلَ اللهِ! میں تو اِسی طرح جاؤں گا، مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ میں آپ کے ساتھ گھوڑے پر بیٹھ جاؤں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیس ! بیا تو تمہیں میرے ساتھ گھوڑے پر سوار ہونا پڑے گا اور یا پھر واپس چلے جاؤ۔مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو سکتا کہ میں گھوڑے پر سوار رہوں اور تم پیدل ساتھ چلو۔اُس نے کہا يَارَسُوْلَ اللهِ ! پھر مجھے اجازت دیجئے کہ میں واپس چلا جاؤں۔آپ نے فرمایا بہت اچھا تم واپس جاسکتے ہو ، چنانچہ وہ واپس چلا گیا۔۵۳ اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ کسی دوسرے کی تکلیف کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔رحم آپ کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور آپ کے لئے کسی کو تکلیف کی حالت میں دیکھنا بالکل نا قابل برداشت تھا۔جانوروں پر شفقت اسی طرح سول کریم ﷺ نے جانوروں پر بھی رحم کیا۔لوگ جب جانوروں کو داغ دیا کرتے تھے تو اُن کی گردن یا منہ پر داغ دیا کرتے تھے۔مگر رسول کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا اور ہدایت کی کہ آئندہ منہ یا گردن کی بجائے جانوروں کی پیٹھ پر داغ دیا جائے کیونکہ اُن میں بھی جان ہوتی ہے اور منہ پر داغ لگانے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔۵۴ انصاف بھی اخلاق فاضلہ میں سے ایک عدل وانصاف کے چند واقعات بہت بڑا خلق ہے اور رسول کریم ﷺ کی زندگی میں اس کی بھی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔میں صرف ایک مثال بیان کر دیتا ہوں۔الله حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو رسول کریم ﷺ کے چاتھے ، وہ بدر کی جنگ میں قید ہو گئے۔اُس زمانہ میں چونکہ ہتھکڑیاں نہیں ہوتی تھیں اس لئے قیدیوں کو رسیوں کے ساتھ مضبوطی سے جکڑ کر کسی ستون یا لکڑی کے کھونٹے کے ساتھ باندھ دیا جاتا تھا۔حضرت عباس کو بھی اسی طرح رسیوں سے باندھ دیا گیا۔چونکہ گر ہیں سخت تھیں اور حضرت عباس ناز و نعم میں پلے ہوئے تھے