انوارالعلوم (جلد 17) — Page 121
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۲۱ اسوه حسنه کچھ لوگ حملہ کر کے آئے تھے اور وہ آپ کی اونٹنیاں چُرا کر لے گئے ہیں ۔ اوع ایک صحابی تھے وہ اُس وقت اکیلے وہاں موجود تھے اور اونٹنیوں کو لے جانے والے بہت زیادہ تھے مگر وہ یہ سنتے ہی اونٹنیاں واپس لانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ انہوں نے آواز دی کہ کوئی اور شخص بھی مدد کے لئے آئے مگر اُس وقت کوئی شخص نہ پہنچا اور وہ اکیلے ہی چل پڑے۔ وہ تھے تو اکیلے لیکن چونکہ تیرا نداز تھے اس لئے وہ درختوں کے پیچھے چُھپ کر ان پر تیر چلا دیتے جس سے وہ زخمی ہو جاتے ۔ اس طرح انہوں نے کئی میل تک اُن کا تعاقب کیا اور تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اُن پر اس قدر تیر برسائے کہ آخر وہ زخمی ہونے کی وجہ سے اونٹنیوں کو سنبھال نہ سکے اور اکو صلى الله علی کی خدمت میں لے آئے ۔ ئے ۔ جب وہ رسول کریم علی تمام اونٹنیاں چھڑا کر رسول کریم ع کی ۔ صلى الله رض کے پاس پہنچے تو کہنے لگے يَارَ سُولَ اللهِ ! وہ لوگ سخت پیاسے تھے اور وہ اونٹنیوں کا دودھ پینے کی کوشش کرتے تھے ۔ مگر جب بھی وہ دودھ پینے لگتے میں انہیں تیر مار کر زخمی کر دیتا اور اس طرح سب کو نا کارہ کر کے میں اونٹنیاں چھڑا لایا ا لایا ہوں ۔ اب آپ کچھ آدمی بھیجوا دیجئے وہ زیادہ دور نہیں ہیں ، دس بارہ میل کے اندر ہیں اور زخموں کی وجہ سے وہ بھاگ بھی نہیں سکتے ۔ اس لئے اُن کو آسانی کے ساتھ گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ۔ انوع ! ہمیں اپنا مال تو مل گیا اب ان غریبوں کو تم کیوں دُکھ دیتے ہو ، انہیں جانے دو تعاقب کی ضرورت نہیں ۔۵۲ دیکھو! یہ رحمدلی کی کیسی شاندار مثال ہے۔ اُس صحابی کو جوش ہے اور وہ کہتا ہے کہ اُن کو ضرور گرفتار کرنا چاہئے ۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ پیاسے اور زخمی ہیں اس وجہ سے بھاگ نہیں سکتے بڑی آسانی سے گرفتار ہو سکتے ہیں مگر محمد رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہماری چیز تو ہمارے پاس آ گئی ، اب تعاقب کی کیا ضرورت ہے۔ صلى الله اسی طرح ایک اور واقعہ بھی جو غیر معروف ہے رسول کریم ﷺ کے جذبات رحم کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک دفعہ آپ ایک انصاری کو ملنے کے لئے گئے اور اُس سے کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔ ﷺ عرض کیا کہ صلى الله جب واپس آنے لگے تو اُس نے گھوڑے پر کاٹھی ڈال دی اور رسول کریم ﷺ سے عرض آپ اس گھوڑے پر سوار ہو کر واپس تشریف لے جائیں ۔ پھر اُس نے اپنے ایک عزیز کو جس کا