انوارالعلوم (جلد 17) — Page 117
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۱۷ اسوه حسنه رسول کریم ﷺ کی اخلاق فاضلہ میں سے ایک اور خلق امانت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو امانت میں بھی اتنا اعلیٰ درجہ حاصل تھا کہ علیہ کو دیانت وامانت کا شہرہ مکہ کے لوگ آپ کو ا ہ مکہ کے لوگ آپ کو امین کہتے تھے۔ آپ کی امانت کی تاریخ میں جو مثالیں پائی جاتی ہیں اُن میں سے ایک مثال یہ ہے کہ جب حضرت خدیجہ نے آپ کو اپنا مال دے کر تجارت کی غرض سے شام کی طرف بھیجا تو چونکہ آپ کی تمام تر توجہ اس بات کی طرف رہتی تھی کہ دیانت داری کے ساتھ کام کیا جائے اور اس غرض کے لئے آپ اپنی طرف سے پورا زور لگایا کرتے تھے اس لئے آپ نے اُن کے مال کی ایسی نگرانی کی کہ تجارت میں غیر معمولی نفع ہوا اور آپ نہایت کامیاب ہو کر اس سفر سے واپس تشریف لائے ۔ حضرت خدیجہ کا پہلا تجربہ یہ تھا کہ جو لوگ اُن کا مال لے کر تجارت کے لئے جایا کرتے تھے وہ بد دیانتی سے کام لیتے تھے لیکن رسول کریم ﷺ نے نہ خود کوئی مال لیا اور نہ کسی اور ملازم کو لینے دیا۔ اس صلى الله کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب آپ تجارت سے واپس آئے تو وہ غلام جو آپ کے ساتھ حضرت خدیجہ نے بھجوائے تھے انہوں نے حضرت خدیجہ سے ذکر کیا کہ اس شخص سے بڑھ کر نیک اور دیانت دار شخص ہم نے عمر بھر میں کوئی نہیں دیکھا ۔ کے یہی وہ گواہی تھی جس کی بناء پر حضرت خدیجہ نے خود خواہش کر کے آپ سے شادی کی حالانکہ وہ ایک بہت بڑی مالدار عورت تھیں اور رسول کریم صلى الله علوم ۔ اُس وقت کے لحاظ سے بالکل مفلس تھے ۔ رسول کریم کا اعلیٰ درجہ کا علم علم بھی اخلاق فاضلہ میں سے ایک عظیم الشان صلى الله عروسه خلق ہے۔ یعنی لوگوں کو معاف کرنا اور اُن سے نرمی اور محبت کے ساتھ پیش آنا ۔ اِس خلق کے لحاظ سے بھی رسول کریم ﷺ نے ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے کہ آج اُس کی نظیر پیش کرنا نا ممکن ہے ۔ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ صدقہ و خیرات تقسیم کر رہے تھے کہ تقسیم کرتے کرتے جس قدر مال آپ کے پاس آیا تھا وہ ختم ہو گیا ۔ جب سب مال تقسیم ہو چکا تو ایک بدو بدوی آیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا لائیے مجھے بھی کچھ دیجئے ۔ آپ نے فرمایا اب میرے پاس کچھ نہیں جس قدر مال آیا تھا وہ میں تقسیم کر چکا ہوں ۔ وہ آخر بدوی تھا، ایمان اُسے حاصل