انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 111

انوار العلوم جلد ۷ 111 ناداروں اور معذوروں کی امداد تیسری صفت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔تَحْمِلُ الْكُلَّ کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔در حقیقت اس کے بغیر بھی دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا تَحْمِلُ الكَلَّ کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص کسی کام کا نہ ہو اُس کی مدد کرنا۔مثلاً لولے لنگڑے اور اندھے جو خود کام کرنے سے معذور ہوتے ہیں اُن کی مدد کرنا تَحْمِلُ الكَلَّ کے مفہوم میں شامل ہے۔اسی طرح اگر کسی کے ماں باپ مر جائیں اور بچے یتیم رہ جائیں تو اُن بچوں کو تعلیم دلانا۔یا جن کے لئے کمائی کرنے والا کوئی نہ رہا ہو اُن کی پرورش کرنا یہ بھی تَحْمِلُ الكَلَّ میں شامل ہے۔پس حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔آپ وہ شخص ہیں کہ صرف اپنا بوجھ نہیں اُٹھاتے بلکہ اُن لوگوں کے بھی بوجھ اُٹھاتے ہیں جن کا بوجھ اُٹھانے والا اور کوئی نہیں ہوتا۔یہ بھی ایک ایسی خوبی ہے جو قومی ترقی کا جز و اعظم ہے اور اس کے بغیر کبھی کوئی قوم اعلیٰ مدارج تک نہیں پہنچ سکتی۔میں نے نظام نو کے متعلق جو تقریر کی تھی اور جو کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہے ، اُس میں میں نے اسی امر کے متعلق توجہ دلائی تھی کہ قوم کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی معذوری کی وجہ سے کمائی نہیں کر سکتے اُن کے لئے کھانا ، کپڑا اور دوائی وغیرہ مہیا کرے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو اسلامی نقطۂ نگاہ سے وہ ہر گز کا میاب حکومت نہیں کہلا سکتی۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خوبی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا یہ بیان فرماتی ہیں کہ آپ اُن لوگوں کی بھی مدد کیا کرتے تھے جو کسی کام کے نہیں ہوتے تھے۔متوسط الحال مگر ضرورت مند طبقہ کی اعانت ایک اور خوبی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ بیان کی ہے کہ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اُن کی مدد تو کر دیتے ہیں جو بالکل معذور ہوتے ہیں جیسے اندھے اور اپاہج وغیرہ لیکن وہ مصیبت زدہ لوگ جو کما تو سکتے ہیں لیکن پوری طرح نہیں سما سکتے اُن کی طرف وہ کوئی توجہ نہیں کرتے حالانکہ دنیا میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنا بوجھ کسی حد تک تو اُٹھا لیتے ہیں لیکن پورا نہیں اُٹھا سکتے۔ایسے مصیبت زدہ لوگوں کو دنیا میں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔مثلاً ایک شخص پچاس روپے کما لیتا ہے لیکن