انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 110

11۔انوار العلوم جلد ۱۷ ہے یا یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ ہے یا برازیل وغیرہ ہیں۔ان ممالک کے باشندے اپنے ملک کے لوگوں سے یا اپنے ہمسایہ ممالک کے لوگوں سے تو حسن سلوک کرتے ہیں مگر دوسروں سے حسن سلوک نہیں کرتے مگر یہ مہمان نوازی بھی دراصل حقیقی مہمان نوازی نہیں ہوتی بلکہ ایک قسم کا سودا ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ اگر آج ہم نے اُن کی خدمت کی ہے تو کل ہمیں ان کے ہاں جانا پڑے گا اور اُس وقت ہمیں ان کی خدمت کی ضرورت ہوگی۔پس یہ تو ایک قسم کا سودا ہے لیکن اگر ہم آسٹریلیا سے آنے والے کی مہمان نوازی کرتے ہیں یا یونائیٹڈ سٹیٹس سے آنے والے کی مہمان نوازی کرتے ہیں تو یہ حقیقی مہمان نوازی ہوتی ہے کیونکہ ہمیں اُس وقت یہ امید نہیں ہوتی کہ کسی وقت ہم بھی آسٹر یلیا یا امریکہ میں اُس کے پاس جائیں گے پس مہمان نوازی مختلف اقسام رکھتی ہے۔بعض ممالک ایسے ہیں جن کے افراد آج بھی اپنی خود داری کی وجہ سے غیر اقوام کے آدمیوں سے حسن سلوک سے پیش نہیں آتے۔جیسے یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ ہے یا آسٹریا، جنوبی امریکہ اور روس وغیرہ ممالک ہیں۔وہ جرمنوں سے اچھا سلوک کرنے کیلئے تیار ہیں ، وہ اطالویوں سے اچھا سلوک کرنے کیلئے تیار ہیں، وہ انہیں دیکھیں گے تو ہاتھ ملا ئیں گے ، اپنے گھر میں انہیں مہمان ٹھہرائیں گے لیکن ایک ہندوستانی کو دیکھتے ہی اُن کی ناک بھوں چڑھ جائے گی۔بلکہ ریل کے ڈبہ میں اگر وہ اُن کے ساتھ ایک کوچ پر بھی بیٹھ جائے تو وہ اس پر بھی بُرا منائیں گے کہ یہ ہندوستانی ہمارے کمرہ میں کیوں آ گیا اور کیوں ہمارے ساتھ بیٹھا۔غرض مهمان نوازی میں مختلف قوموں کے مختلف اصول ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ تھے جن کی مہمان نوازی صرف اپنی قوم کے ساتھ مخصوص نہ تھی ، اپنے ملک کے ساتھ مخصوص نہ تھی، بلکہ جو بھی اجنبی خواہ وہ کسی قوم اور کسی ملت سے تعلق رکھنے والا ہو آپ کے پاس آتا ، آپ اُس کی مہمان نوازی میں حصہ لیتے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بھی اس کیلئے رستہ کھولا اور اپنی تعلیم سے بھی لوگوں کو مشورہ دیا کہ قومی تعصب مٹا دوسب لوگوں سے بلا امتیاز مذہب وملت محبت و پیار کا سلوک کرو۔ہر آنے والے کی مہمان نوازی کرو اور اس طرح دنیا کی ترقی میں مدد دو۔