انوارالعلوم (جلد 17) — Page 109
انوار العلوم جلد ۱۷ 1+9 جو دنیا میں امن قائم کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔اس کے بعد دوسرا اصولی خُلق یہ ہے کہ وَتَقْرِى الضَّيْفَ باہر سے آنے مہمان نوازی والے مہمان کے ساتھ عزت کا سلوک کیا جائے اور اُس کی مہمان نوازی میں کوئی کمی نہ کی جائے۔لیکن مہمان نوازی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک مہمان نوازی تو یہ ہے کہ لاہور سے کوئی مہمان آئے یا پشاور سے مہمان آئے تو ہم اُس کی مہمان نوازی کریں۔یہ مهمان نوازی در حقیقت مہمان نوازی کی ایک ادنیٰ قسم ہے کیونکہ اس مہمان نوازی میں ایک یہ غرض بھی پوشیدہ ہوتی ہے کہ جب ہم لاہور یا پشاور جائیں گے تو یہ شخص ہماری مہمان نوازی کرے گا۔پس یہ مہمان نوازی ایسی اعلیٰ نہیں۔اس سے بڑھ کر ایک اور مہمان نوازی یہ ہوتی ہے کہ یو۔پی کا ہمارے ہاں کوئی مہمان آجائے یا سرحد سے ہمارے ہاں کوئی مہمان آجائے یا بنگال اور بہار سے ہمارے ہاں کوئی مہمان آجائے تو ہم اُس کی خدمت کریں۔یہ مہمان نوازی پہلی مہمان نوازی سے زیادہ اعلیٰ ہے کیونکہ یو۔پی یا سرحد یا بنگال یا بہار میں ہمیں جانے کا اتنا موقع نہیں مل سکتا جتنا لا ہور یا پشاور جانے کا مل سکتا ہے لیکن پھر بھی یہ سب ہمارے ملک کے لوگ ہوتے ہیں۔ہم سے ایک قسم کا تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے اندر یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر آج یہ ہمارے پاس آئے ہیں تو ممکن ہے کبھی ہمیں بھی ان کے علاقہ میں جانا پڑے پس یہ مہمان نوازی کسی دوسرے وقت خود ہمارے ہی کام آ سکتی ہے۔لیکن ایک مہمان وہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے ملک کا ہوتا ہے۔مثلاً آسٹریا کا کوئی باشندہ ہو یا کینیڈا کا کوئی باشندہ ہو جن کا ملک اور ہے ، جن کی زبان اور ہے، جن کے رسم و رواج اور ہیں، جن کی طرز معاشرت اور ہے ، جن کی حکومت اور ہے ایسے ممالک کے رہنے والوں میں سے اگر کوئی شخص ہمارے ہاں آتا ہے اور ہم اُس کی مہمان نوازی میں حصہ لیتے ہیں تو یقیناً یہ مہمان نوازی زیادہ شاندار ہے کیونکہ ہم نے اُس شخص کی مہمان نوازی کی جس کے ہاں جانے کی ہمیں کوئی توقع ہی نہیں تھی۔غرض دنیا میں مختلف قومیں اپنے مہمانوں سے مختلف سلوک کرتی ہیں۔بعض قو میں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی قوم والوں سے تو اچھا سلوک کرتی ہیں لیکن اگر کوئی غیر قوم والا اُن کے پاس چلا جائے تو اُس سے کوئی سلوک کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں۔جیسے آسٹریلیا ہے یا ساؤتھ افریقہ