انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 106

انوار العلوم جلد ۱۷ 1+4 ٹھہرایا جائے اور آپ ڈرتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ میری اُمت میں سے بھی کوئی اس غلطی کا ارتکاب کرے اسی لئے آپ بار بار ذکر فرماتے تھے مگر افسوس آج مسلمانوں میں ہی بعض ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب حاصل تھا یا اسی قسم کی بعض اور خدائی صفات آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔آپ کا اپنے بیٹے کی وفات پر اعلان کہ سورج غیرت کی تیسری مثال جو آپ کی زندگی میں ہمیں اور چاند گرہن کا کسی کی موت سے تعلق نہیں نظر آتی ہے اور جو ایک نہایت ہی لطیف مثال ہے وہ یہ ہے کہ جب آپ کا صاحبزادہ ابراہیم فوت ہوا جو آپ کی آخری عمر کی اولا د تھے اور بڑی اُمیدوں کے بعد اور بہت دیر کے بعد پیدا ہوئے تھے تو طبعی طور پر صحابہ کو سخت صدمہ ہوا۔اس خیال سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی لڑکا تھا اور وہ بھی فوت ہو گیا۔اتفاقاً اُسی دن سورج کو گرہن لگ گیا اور صحابہ نے کہنا شروع کر دیا کہ ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج کو گرہن لگا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا خدا کے بندے بندے ہی ہوا کرتے ہیں ، خدا نہیں ہوتے۔سورج اور چاند گرہن خدا تعالیٰ کی آیتوں میں سے ایک آیت ہیں ، اُن کا کسی بندے کی موت سے کوئی تعلق نہیں۔۴۱ خشیت الہی خشیت اللہ بھی ایمان کیلئے ایک لازمی چیز ہے۔اس کے بغیر انسان کا ایمان کبھی کامل نہیں ہوسکتا۔ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر جب اس نقطہ نگاہ سے غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خشیت اللہ آپ پر اس قدر غالب تھی اور اس قدر نمایاں طور پر آپ میں پائی جاتی تھی کہ اُس کو دیکھ کر انسان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ایک کامل نبی اور خاتم النبیین کے اندر اسی قسم کی خشیت اللہ پائی جانی چاہیئے۔اول تو رسول کریم ﷺ کی نمازوں کو ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ اتنی رفت سے نمازیں پڑھا کرتے تھے کہ بعض دفعہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ کسی دیگ کے نیچے آگ جل رہی اور اُس کا پانی اُبل رہا ہے۔