انوارالعلوم (جلد 17) — Page 101
انوار العلوم جلد ۷ 1+1 رسول کریم ﷺ نے ہر بڑی سے ابوطالب بڑے نیک آدمی تھے۔صلى الله رسول کریم ﷺ سے بڑی محبت رکھتے بڑی لالچ کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیا تھے مگر انہیں اپنی سرداری بھی بڑی صلى الله پیاری تھی۔انہوں نے رسول کریم ﷺ کو بلوایا اور کہا آج تیری قوم میرے پاس آئی تھی اور وہ کہتی تھی کہ ابو طالب ہمیں تیر الحاظ ہے اور تیرے لحاظ کی وجہ سے ہی ہم نے تیرے بھتیجے کو اب تک کچھ نہیں کہا مگر آب بات حد سے گزرگئی ہے وہ اگر اور کوئی بات نہیں مانتا تو اُسے صرف اتنا کہہ دیا جائے کہ وہ ہمارے بچوں کو بُرا بھلا نہ کہے ہم اُسے اپنا بادشاہ بنانے کے لئے تیار ہیں۔اگر دولت چاہے تو اُسے اتنی دولت دینے کے لئے تیار ہیں کہ عرب میں اُس سے بڑھ کر اور کوئی مالدار نہ رہے۔کوئی حسین بیوی چاہے تو ہم اچھی سے اچھی عورت سے اُس کی شادی کرنے کے لئے تیار ہیں۔غرض وہ کوئی بھی مطالبہ کرے ہم اُسے پورا کرنے کے لئے تیار ہیں۔وہ صرف اتنا کرے کہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ابو طالب کے بڑے احسانات تھے، انہوں نے آپ کو بچپن سے بڑی محبت اور پیار کے ساتھ پالا تھا اور ہر دُکھ اور مصیبت میں انہوں نے آپ کا ساتھ دیا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کی یہ حالت دیکھی تو اُن احسانات کو یاد کر کے آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔مگر آپ نے فرمایا چچا میں تو نہیں کہتا کہ آپ میری مدد کریں ، آپ بیشک اپنی قوم کا ساتھ دیں اور مجھے چھوڑ دیں۔خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں ایک خدا کے ذکر سے باز نہیں آؤں گاہ سے دیکھو! کتنا وثوق اور کتنا یقین ہے خدا تعالیٰ کی ذات پر۔حالانکہ سورج کا اپنی جگہ سے ہلنا اتنا بڑا معجزہ ہے کہ اگر یہ واقعہ ہو تو انسان حیران ہو کر رہ جائے۔مگر آپ فرماتے ہیں اگر یہ سورج کو اُس کی جگہ سے ہلا دیں اور میرے پاس لا کر کھڑا کر دیں اگر یہ چاند کو اُس کی جگہ سے ہلا دیں اور میرے پاس لا کر کھڑا کر دیں تب بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر مجھے ایسا یقین اور وثوق ہے کہ میں ان چیزوں کو شعبدہ بازی سمجھوں گا۔میں ان کی بُت پرستی پر ہمیشہ اعتراض کروں گا اور اپنے اس کام سے کبھی باز نہیں آؤں گا۔