انوارالعلوم (جلد 17) — Page 100
انوار العلوم جلد ۷ اسوه حسنه صلى الله ساتھ لیکر کئی کئی دن تخلیہ میں عبادت کرنے کے لئے غار حرا میں چلے جاتے۔غرض آپ کی زندگی کی ابتداء محبت الہی سے ہوئی اور آپ کی زندگی کی انتہا بھی محبت الہی پر ہی ہوئی۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ نے انتقال فرمایا تو اُس وقت آپ کا سر میرے سینہ پر تھا اور آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے کہ فِی الرَّفِيقِ الأعلى " اپنے آسمانی خدا کے پاس میں اب جانا چاہتا ہوں۔اپنے آسمانی دوست کے پاس میں اب جانا چاہتا ہوں۔یہ محبت الہی کے نظارے آپ کی زندگی میں ایسے ایسے شاندار نظر آتے ہیں کہ اُن کو دیکھ کر حیرت آجاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اللہ تعالیٰ کی توحید کے متعلق لوگوں کو وعظ کرنا شروع کیا اور شرک کی تردید شروع کی تو مکہ والوں کو یہ بات بہت ہی نا گوار گزری اور آخر ایک دن سمجھوتہ کر کے وہ ایک وفد کی صورت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کے پاس آئے اور انہیں کہا کہ آپ ہماری قوم کے سردار ہیں آپ کا ہم بہت ادب کرتے ہیں اور آپ کے ادب کی وجہ سے ہی ہم آپ کے بھتیجے کو کچھ نہیں کہتے۔مگر آب معاملہ حد سے گزر گیا ہے اور ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں کہ آپ اُس سے اس معاملہ میں ہماری طرف سے آخری بات کریں۔اگر اُسے کوئی خوبصورت بیوی چاہئے تو ہم اُسے سب سے اعلیٰ گھرانے کی اور سب سے زیادہ حسین لڑکی دینے کے لئے تیار ہیں اور اگر اُسے روپیہ کی ضرورت ہے تو ہم سب اُسے اپنی دولت میں سے ایک ایک حصہ دینے کے لئے تیار ہیں اور اگر اُسے حکومت چاہئے تو ہم اُسے اپنا سردار بنانے کے لئے تیار ہیں مگر وہ اتنا لحاظ تو کرے کہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہے۔ہم اُسے یہ نہیں کہتے کہ وہ ہمارے بتوں کو مان لے ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہے اور اگر وہ ہماری ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی نہ مانے تو پھر آپ اُس کا ساتھ چھوڑ دیں ، ہم خودا سے نپٹ لیں گے۔