انوارالعلوم (جلد 17) — Page 99
انوار العلوم جلد کا ۹۹ ہیں اور خدا تعالیٰ کا امتحان نہیں لیتے۔عبادت کرتے ہیں تو پاؤں سوج جاتے ہیں اور لوگ توجہ دلاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اَفَلَا اَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا سے پھر اتنے عمل پر کوئی کہتا ہے کہ آپ اپنے عمل سے نجات پائیں گے تو فرماتے ہیں نہیں میری نجات بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوگی سے وہاں اتنا عمل کر کے یہ انکسار ہے اور یہاں عمل ترک کر کے خدا تعالیٰ پر حق جتائے جاتے ہیں بلکہ احسان رکھا جاتا ہے۔در حقیقت ہم جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا ایمان اپنے اندر پیدا نہیں کرتے ، ایمان کا دعویٰ ایک لغو دعویٰ ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص کا ایمان اتنا ہی شاندار ہو مگر کم از کم اُس کی نقل کرنے کی کوشش تو ہونی چاہئے۔راستہ تو وہ ہونا چاہئے ، پھر راستہ میں مرجانے پر بھی ہم نجات پاسکتے ہیں۔لیکن اگر راستہ ہی اور ہو اور انسان اس طریق کو ہی اختیار نہ کرے جو محمد رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا تھا اور جس کا نمونہ آپ نے ہمارے سامنے پیش کیا تو ایسی صورت میں نجات کی کیا اُمید ہو سکتی ہے۔محبت الہی کے ایمان افروز نظارے پھر خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی ایک نمایاں علامت محبت ہوا کرتی ہے۔جہاں ایمان ہو وہاں محبت ضرور موجود ہوتی ہے اور در حقیقت کامل معرفت کسی انسان کو حاصل ہی نہیں ہو سکتی جب تک خدا تعالیٰ کی کامل محبت اُس کے اندر نہ پائی جائے۔رسول کریم ﷺ کی ذات میں ہمیں محبت الہی کا نظارہ ایسے شاندار طریق پر نظر آتا ہے کہ آپ نے اپنی ساری عمر محبت الہی میں ہی گزار دی۔رسول کریم ﷺ کی روحانی بلوغت تامہ کی زندگی غار حرا سے شروع ہوتی ہے۔آپ کا طریق تھا کہ آپ وہاں جاتے اور دن رات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے۔آپ کی اُس وقت بیوی موجود تھی، بچے موجود تھے مگر اُن سب کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی محبت کے جوش میں تین تین ، چار چار، پانچ پانچ دن وہاں رہتے اور ایک پہاڑی پر دو پتھروں کے درمیان بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے۔پھر آپ واپس تشریف لاتے تو مسکینوں کی خبر گیری کرتے ، کمزوروں کی مدد کرتے ، اُن کی کوئی تکلیف معلوم ہوتی تو اُسے دُور کرنے کی کوشش کرتے اور پھر کھانا اپنے