انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 98

انوار العلوم جلد ۱۷ ۹۸ أسووحن سکتے تھے وہاں تک آپ تمام تدابیر سے کام لیتے اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کیا کرتے تھے۔پس آپ کا ایمان جہالت اور سستی والا ایمان نہ تھا بلکہ آپ کا ایمان مشاہدہ والا ایمان تھا اور مشاہدہ والا ایمان اسی شخص کا ہوتا ہے جو ایک ہی وقت میں تو کل بھی کرتا ہے اور عمل بھی کرتا ہے، گو یا عمل اور تو کل دونوں کو اکٹھا رکھتا ہے۔پس سیہ وہ ایمان ہے جو ہمارے لئے اپنے اندر پیدا کرنا ضروری ہے اگر ہم یہ ایمان اپنے اندر پیدا کر لیتے ہیں یا اس جیسا ایمان پیدا کر لیتے ہیں کیونکہ ہر شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل تصویر نہیں ہو سکتا تو یقینا ہم اپنے دلوں میں ایمان پیدا ہونے کی اُمید رکھ سکتے ہیں اور اطمینان حاصل کر سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جس قسم کا ایمان ہمارے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے اُس قسم کے ایمان کے لئے ہم نے صحیح کوشش شروع کر دی ہے۔رسول کریم ﷺ کی حیات طیبہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی زندگی کو دیکھو وہ ایک ایسا پیہم عمل ہے کہ حیرت آتی ہے۔دنیا کا ایک پیہم عمل دکھائی دیتی ہے کوئی انسان اس قدر کام کرنے والا نظر نہیں آتا۔وہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھاتے ہیں، قرآن کریم یا د کراتے ہیں، قرآن کریم کی تفسیر لوگوں کو سکھاتے ہیں ، قاضی ہیں لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرتے ہیں، محتسب ہیں اس بات کی نگرانی رکھتے ہیں کہ تاجروں اور زمینداروں کے لین دین درست رہیں، غریبوں کے کام کرتے ہیں، قوم کے خزانچی ہیں ، خزا نہ جمع کرتے ہیں اور اُسے تقسیم کرتے ہیں ، جرنیل ہیں فوج کی کمان کرتے ہیں ، انسٹرکٹر ہیں فوجی ہنر قوم کو سکھاتے ہیں، سیاسی آدمی ہیں مسلمانوں اور یہو دومشرکین وغیرہ کے جھگڑے چکاتے ہیں۔جاسوس جا رہے ہیں ، معاہدات ہو رہے ہیں ، گھر میں جاتے ہیں تو عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ یک انا رصد بیمار بھی ناممکن ہوتا ہے مگر یہاں تو ایک شخص ہزاروں کام کرتا ہے اور سارے ہی ٹھیک کرتا ہے۔پھر اس کے ساتھ اچھا خاوند بھی ہے اور اچھا باپ بھی ہے اچھا رشتہ دار بھی ہے۔غرض ہر ضرورت کو تاڑتے ہیں وقت پر ہر کام کرتے ہیں اور یہ نہیں کہہ دیتے کہ ہمیں اللہ پر ایمان ہے وہ آپ ہی سب کام کر دے گا۔آپ ایک صادق القول کی طرح خدا تعالیٰ کے ایمان کا اپنے عمل سے ثبوت دیتے