انوارالعلوم (جلد 17) — Page 95
انوار العلوم جلد کا ۹۵ ہیں کہ اس آواز کے سنتے ہی ہماری یہ حالت ہوگئی کہ ہمیں یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ ہمیں کوئی آدمی پکار رہا ہے بلکہ ہمیں یہ معلوم ہوتا تھا کہ قیامت کا دن ہے اور مُردہ رُوحوں کو زندہ کرنے کیلئے صوراسرافیل پھونکا جا رہا ہے۔اُس وقت ہمیں دنیا و مافیہا کا کوئی ہوش نہ رہا اور صرف ایک ہی آواز ہمارے کانوں میں گونجنے لگی اور وہ عباس کی آواز تھی۔اُس وقت ہماری تمام کمزوری جاتی رہی اور یا تو ہمارے اندر یہ احساس پایا جاتا تھا کہ ہم اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو نہیں روک سکتے یا پھر ہم نے آخری دفعہ پھر زور لگایا اور اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو موڑنے کی پوری کوشش کی۔چنانچہ جو مُڑ گئے سو مڑ گئے اور جو نہ مڑے ہم نے تلوار میں نکال کر اُن کی گردنیں کاٹ دیں اور پیدل دوڑتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ایمان سے فائدہ اُٹھایا۔چنانچہ جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ شان تھی کہ خواہ کیسا ہی خطرہ ہو خدا آپ کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا تھا یہی شان اپنے درجہ کے مطابق صحابہ میں بھی پیدا ہو گئی۔چنانچہ قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ جب غزوہ احزاب کا موقع آیا تو خطرہ بہت بڑھ گیا۔اُس وقت دشمن کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ منافق بھی اُن کو دیکھ کر دلیر ہو گئے اور وہ کہنے لگے یہ مسلمان تو دنیا فتح کرنے کا ارادہ رکھتے تھے آج دیکھو ان کی کس طرح شامت آئی ہوئی ہے۔قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ منافقوں نے اُس وقت یہ کہنا شروع کر دیا کہ اهل يَثْرِب لا مُقام لَكُمْ فَارْجِعُوا ۳۰ اے مدینہ والو ! اب تمہارے لئے کوئی ٹھکانہ باقی نہیں رہا۔اب تمہاری نجات کی یہی صورت ہے کہ مرتد ہو جاؤ اور اسلام کو چھوڑ دو ورنہ سب کے سب مارے جاؤ گے۔مگر اس کا مومنوں پر کیا اثر تھا؟ وہ بھی قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔اُس وقت دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی ، عرب کے سارے قبائل جمع ہو کر مسلمانوں پر حملہ کرنے کیلئے آگئے تھے اور مسلمان نہایت قلیل تعداد میں تھے ، اُدھر مدینہ کے اندر جو یہودی رہتے تھے وہ بھی مسلمانوں کے مخالف ہو گئے۔دوسری طرف خود مسلمانوں کے ایک حصہ نے جو منافقوں پر مشتمل تھا انہیں طعنے دینے شروع کر دیے کہ بتاؤ تمہارے دنیا فتح کرنے کے خواب کدھر گئے اب تو مرتد ہونے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا۔ایسے خطرناک حالات میں جب کہ اپنے بھی بگڑ چکے تھے، ہمسائے بھی مخالف ہو چکے تھے اور باہر بھی سارا ملک