انوارالعلوم (جلد 17) — Page 91
انوار العلوم جلد ۷ ۹۱ میری زندگی کا ایک قابل فخر واقعہ میری زندگی میں بھی مجھ سے ایک ایسی ہی کمزوری سرزد ہوئی ہے مگر مجھے اپنے تمام اعمال سے زیادہ اس کمزوری پر خوشی ہوا کرتی ہے۔وہ بیوقوفی کی بات تھی خالص پاگل پن تھا مگر مجھے جتنا اپنے اُس پاگل پن پر ناز ہے اتنا ناز مجھے اور کسی کام پر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ تھا کہ ایک دفعہ قادیان میں بجلی گری اور اس زور سے گری کہ بڑی دُور تک اُس کی دہشت ناک آواز پھیل گئی۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صحن میں تھے۔جب بارش شروع ہوئی تو آپ صحن سے اُٹھ کر کمرہ کے اندر تشریف لے جانے لگے۔ابھی آپ صحن میں ہی تھے کہ یکدم بجلی گرنے کی خوفناک آواز پیدا ہوئی۔میں اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تھا میں نے جلدی سے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور آپ کے سر پر رکھ دیا یہ خیال کر کے کہ اگر بجلی گرے تو میرے ہاتھوں پر گرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہ گرے۔یہ ساری ہی پاگل پن کی باتیں تھیں۔اول یہ خیال کرنا کہ خدا کے مسیح پر بجلی گرے گی۔دوم یہ خیال کرنا کہ اگر بجلی گری تو میرے ہاتھ اُسے روک لیں گے یہ دونوں ہی پاگل پن کی باتیں ہیں اور بعد میں میں اپنی اس حرکت پر ہنس بھی پڑا۔مگر میں نے آج تک جتنے کام کئے ہیں اس سے زیادہ مجھے اور کسی کام پر فخر نہیں۔یہ ہے تو ایک بیوقوفی لیکن اس بیوقوفی سے مجھے اُس وقت یہ یقین ہو گیا کہ میرے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر پورا ایمان ہے۔اگر یہ بیوقوفی مجھ سے سرزد نہ ہوتی تو مجھے اپنے اس اندرونی ایمان کا پتہ نہ لگتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خطرہ خیالی تھا مگر جس انسان کی خاطر میں نے یہ فعل کیا چونکہ وہ میرا محبوب تھا اس لئے میں نے اس خطرہ کو حقیقی خطرہ سمجھا اور یہ خیال میرے دل سے جاتا رہا کہ یہ وہم ہے۔ایسا کب ہوسکتا ہے۔معلوم ہوتا ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بھی اُس وقت ایسی ہی حالت تھی۔بیشک عقل کی گھڑیوں میں انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خدا کے رسول ہیں اس لئے اُن پر کوئی ایسی مصیبت نہیں آ سکتی کہ دشمن اُن تک پہنچ جائے لیکن عشق میں یہ بات نہیں سُوجھتی۔جب معشوق خطرہ میں ہو تو عاشق کا دل دھڑکتا ہے کہ ایسا نہ ہو اسے کوئی نقصان