انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 71

انوار العلوم جلد ۱۷ ا اسوه حسنه کر بلا ئیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبا نم آدمم نیز احمد مختار در برم جامعه ہمہ ابرار آنچه داد است ہر نبی را جام داد آن جام را مرا تمام کا فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر زمانہ کے لئے اپنا ایک شہید پیدا کیا کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی شان دنیا میں انہی شہیدوں کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے اور اُس کے چہرے کا حُسن انہی شہیدوں کے ذریعے نکھرا کرتا ہے۔ چونکہ میرے حصہ میں بھی یہ سعادت مقدر کی جا چکی تھی اِس لئے آہستہ آہستہ میری نوبت بھی آگئی اور چونکہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں میرا قتیل ہونا ضروری تھا اور یہ قرار دیا جا چکا تھا کہ میں اُس کے عشق میں مارا جاؤں اس لئے کر بلا ئیست سیر ہر آنم میں نے کربلا کی سیر کی اور ہر گھڑی سیر کی ۔ دشمن ، صداقت کا دشمن ، راستی اور ٹور کا دشمن بری اور ہر ھڑی سیریا ۔ دمن، صداقت کا دمن ، را مجھ پر بھی آج تیر برسا رہا ہے۔ مگر تیر کچھ ایسی بیدردی کے ساتھ برسا رہا ہے کہ گویا اُس کے سامنے ایک حسین نہیں سو حسین کھڑا ہے۔ آدمم نیز احمد مختار صلى الله روس میں سارے نبیوں کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہوں آدم سے لیکر محمد رسول اللہ ﷺ تک کوئی نبی ایسا نہیں جس کے کمالات مجھ میں پائے نہ جاتے ہوں ۔ در برم جامعه ہر نبی اور ہر ولی کا گر تہ مجھے پہنایا گیا ہے۔ سود ابرار آنچه دادست ہر نبی را جام داد آن جام را مرا بتمام