انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page viii of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page viii

انوار العلوم جلد کا k بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب تعارف کتب یہ انوار العلوم کی ستر ہویں جلد ہے جو سید نا حضرت فضل عمر خلیفہ لمسیح الثانی کی ۲۶ دسمبر ۱۹۴۳ء سے ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۴ ء تک ۲۲ مختلف تقاریر و تحریرات پر مشتمل ہے۔(۱) محبت الہی ہی ساری ترقیات کی جڑ ہے حضرت فضل عمر نے یہ مختصر خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۴۳ء کا افتتاح کرتے ہوئے مؤرخہ ۲۶ / دسمبر کو ارشاد فرمایا جو مورخه ۳۱ دسمبر ۱۹۴۳ ء کوروز نامہ الفضل میں شائع ہوا۔اس خطاب کا مرکزی نقطہ محبت الہی ہے جیسا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ :۔اس میں کوئی محبہ نہیں کہ دنیا کی روحانی ترقی کا سارا دار و مدارگلتی طور پر بغیر کسی استثناء کے اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ وابستہ ہے۔جس انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت قائم رہے، جس کے دل میں یہ تڑپ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی گود میں داخل ہو جاؤں اور اس کے دامن کو پکڑ لوں ایسا انسان کبھی بھی خواہ وہ کتنے ہی گناہوں میں ملوث ہو گناہوں کی موت نہیں مرتا اور نہیں مرسکتا۔(۲) مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ء ) حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالانہ ۱۹۴۳ء کے موقع پر مؤرخہ ۲۷ / دسمبر کو لجنہ اماءاللہ سے یہ روح پرور خطاب فرمایا۔اس خطاب کے آغاز میں حضور نے اپنی ناسازی طبع کے باعث تقریر مختصر کرنے کا اظہار فرمایا اور جلسہ سالانہ کے موقع پر سٹیج پر بیٹھنے والی خواتین میں چائے پیش