انوارالعلوم (جلد 17) — Page 47
انوار العلوم جلد ۷ ۴۷ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) تمہیں آنے والی حالت پسند ہے یا موجودہ؟ تو وہ یہی کہے گا کہ اس وقت میرا چپڑاسی ہونا اُس زمانہ کے امیر و کبیر ہونے سے اچھا ہے۔تو خدا تعالیٰ کی جماعتوں میں اس قسم کی چیزیں بھی آتی ہیں اور جماعت احمدیہ میں بھی آجائیں گی مگر جو مزا آج گالیاں کھانے اور ماریں سہنے میں ہے وہ اُس وقت نہیں آئے گا۔کس قدر ہمیں اس وقت حسرت ہوتی ہے جب ہم حدیثیں پڑھتے ہیں کہ کاش! ہم بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہوتے اور آپ کی زیارت کا شرف حاصل کرتے خواہ کتنی دور سے زیارت نصیب ہوتی۔خدا تعالیٰ نے یہ ہم پر فضل کیا ہے کہ اُس نے ایک ایسا انسان ہم میں بھیجا جسے قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مثیل قرار دیا ہے۔مگر باوجود اس کے ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل مل گیا اصل کو دیکھنے کی ایسی خواہش ہے کہ بعض اوقات تو نا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔جب میں صحابہ کرام کی قربانیوں کا ذکر پڑھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی اس لئے کھڑا ہے کہ آپ تک دشمن کا کوئی تیر نہ پہنچے اور تیر وہ اپنے جسم پر کھائے اور جب وہ تیر کھا کر مدہوش ہو جاتا اور گر پڑتا ہے تو ایک دوسرا اُس کی جگہ یہ کہہ کر لے لیتا ہے کہ اس نے تو کافی نعمت حاصل کر لی اب مجھے یہ نعمت حاصل کرنے دیں، تو دل بے تاب ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ۲۰۴۳ نصیب ہوا۔اس کے مقابلہ میں دنیا کے مال اور دوسری چیزیں کیا حقیقت رکھتی ہیں۔آج سے سو سال بعد دنیا کا جو بہت بڑا بادشاہ ہو اُس میں اگر احمدیت کا ایمان ہوگا تو وہ کہے گا آج بادشاہ ہونے کی بجائے اگر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ڈیوڑھی کا دربان ہوتا یا آپ کی بستی میں تنور کی دُکان کرتا تو بہت اچھا ہوتا۔پس یہ دنیا کی چیزیں ہیں کیا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام الوصیت میں تحریر فرماتے ہیں۔احمدیت کیلئے مال آئیں گے اور ضرور آئیں گے اس بات کا مجھے ڈر نہیں البتہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ ان اموال کو سنبھالنے والے دیانت دار ملیں گے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت ایک لاکھ روپیہ آنا بھی ناممکن سمجھا جاتا تھا مگر اب آٹھ دس لاکھ