انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 545

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۴۵ الموعود قبول نہ کرنا اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے دلوں میں سمجھتے ہیں خدا اس کے ساتھ ہے اگر ہم نے قرعہ کا طریق منظور کر لیا تو خدا قرعہ میں ایسی ہی آیات نکلوائے گا جن کی تفسیر اس کو اچھی طرح آتی ہوگی اور ہم شَاهَتِ الْوُجُوہ کے مصداق بن کر رہ جائیں گے۔باقی رہے مصری صاحب سو وہ نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔وہ ایک لمبا عرصہ یہاں رہے ہیں اور میرے سامنے شاگردوں کی طرح بیٹھتے رہے ہیں جب بھی میں جلسہ سالانہ کے بعد تقریر سے فارغ ہو کر گھر جاتا تو مصری صاحب دروازہ پر ہی مجھے روک لیتے اور کہتے حضور نوٹ عنایت فرماویں۔میں کہتا کہ نوٹوں کی کیا ضرورت ہے تقریر چھپ جائے گی۔اس پر وہ کہتے کہ کون تقریر کے چھپنے کا انتظار کرے آپ اپنے نوٹ مجھے دے دیں جب تک تقریر شائع نہیں ہوتی میں ان معارف سے فائدہ اُٹھا تا رہوں گا۔وہ شخص جو اس طرح لمبے عرصہ تک میرے علوم سے فائدہ اُٹھا تا رہا ہے اور شاگردوں کی طرح میرے سامنے بیٹھتا رہا ہے، اب وہ مجھے تفسیر نویسی کا چیلنج دے رہا ہے۔ان کو یا درکھنا چاہئے کہ انہیں ہرگز کوئی نیابتی پوزیشن حاصل نہیں ہے اور نہ وہ اس قابل ہیں کہ انہیں تفسیر نویسی کا اہل سمجھا جائے۔بہر حال تفسیر نویسی کا جو راستہ میں نے بتایا ہے وہ نہایت منصفانہ ہے۔قرعہ ڈالنے میں کسی کو کوئی خاص رعایت نہیں ملتی۔غیر احمدیوں کا کوئی نمائندہ جو فی الواقع نمائندہ کی حیثیت رکھتا ہو یا مولوی محمد علی صاحب اِس طرح مقابلہ کر لیں اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کر دے گا اور صداقت کو ظاہر کر دے گا۔اس کے علاوہ قرآن کریم کے بہت سے حصوں کی تفسیر میری طرف سے لکھی ہوئی موجود ہے۔اس شائع شدہ تفسیر سے بھی اس پیشگوئی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔بعض دشمن اس موقع پر کہہ دیا کرتے ہیں غیر مبائعین میں سے بھی اور دوسروں میں سے بھی کہ ہم مانتے ہیں آپ بہت ذہین ہیں ، باتیں خوب نکال لیتے ہیں اور مناسب مضمون اخذ کر لیتے ہیں۔مگر اس اعتراض سے بھی میری صداقت ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس اعتراف کے معنی یہ بن جائیں گے کہ مرزا صاحب نے ایک پیشگوئی کی تھی کہ 9 سال کے عرصہ میں میرے ہاں ایک ایسالڑ کا پیدا ہوگا جو بہت ذہین ہوگا اور بڑا چالاک ہوگا اور پرانی تفسیروں میں سے ایسے ایسے علوم چرانے کا اُسے ملکہ حاصل ہوگا کہ اُس وقت کے بڑے بڑے تجربہ کار بھی اس قسم کی علمی چوری میں اُس کا