انوارالعلوم (جلد 17) — Page 526
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۲۶ الموعود جب وہ موعود بھاگے گا تو ایک ایسے علاقہ میں پہنچے گا جہاں ایک جھیل ہوگی اور جب وہ اُس جھیل کو پار کر کے دوسری طرف جائے گا تو وہاں ایک قوم ہوگی جس کو وہ تبلیغ کرے گا اور وہ اُس کی تبلیغ سے متاثر ہو کر مسلمان ہو جائے گی۔تب وہ دشمن جس سے وہ موعود بھاگے گا، اُس قوم سے مطالبہ کرے گا کہ اس شخص کو ہمارے حوالے کیا جائے مگر وہ قوم انکار کر دے گی اور کہے گی ہم لڑ کر مر جائیں گے مگر اسے تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔چنانچہ خواب میں ایسا ہی ہوتا ہے۔جرمن قوم کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ تم ان کو ہمارے حوالے کر دو۔اُس وقت میں خواب میں کہتا ہوں یہ تو بہت تھوڑے ہیں اور دشمن بہت زیادہ ہے مگر وہ قوم باوجود اس کے کہ ابھی ایک حصہ اس کا ایمان نہیں لایا ، بڑے زور سے اعلان کرتی ہے کہ ہم ہرگز ان کو تمہارے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ہم لڑ کر فنا ہو جائیں گے مگر تمہارے اس مطالبہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔تب میں کہتا ہوں دیکھو! وہ پیشگوئی بھی پوری ہوگئی۔اس کے بعد میں پھر اُن کو ہدایتیں دے کر اور بار بار تو حید قبول کرنے پر زور دے کر اور اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین کر کے آگے کسی اور مقام کی طرف روانہ ہو گیا ہوں۔اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ اس قوم میں سے اور لوگ بھی جلدی جلدی ایمان لانے والے ہیں چنانچہ اِسی لئے میں اُس شخص سے جسے میں نے اُس قوم میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے کہتا ہوں جب میں واپس آؤں گا تو اے عبدالشکور ! میں دیکھوں گا کہ تیری قوم شرک چھوڑ چکی ہے، موحد ہو چکی ہے اور اسلام کے تمام احکام پر کار بند ہو چکی ہے۔اسے نے یہ رویا سات آٹھ جنوری ۱۹۴۴ء کی درمیانی شب خدا تعالیٰ نے مجھے دکھایا جس سے یہ بات آسمانی طور پر مجھ پر ظاہر ہو گئی کہ وہ پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام - اپنے ایک بیٹے کے متعلق فرمائی تھی اور جس کے متعلق یہ تعین فرمائی تھی کہ و ۲۰۰ فروری ۱۸۸۶ء سے ۹ سال کے عرصہ کے اندراندر پیدا ہو جائے گا ، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا تھا کہ وہ اُسے آپ کا جانشین بنائے گا، اُس سے آپ کے کام کی تکمیل کروائے گا اور اُس کے وجود میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی بعض پیشگوئیوں کو بھی پورا کرے گا ، وہ میں ہی ہوں۔چنانچه ۲۸ جنوری کو قادیان کی مسجد اقصیٰ میں جمعہ کے دن میں نے اپنے خطبہ میں اس کا اعلان