انوارالعلوم (جلد 17) — Page 522
انوار العلوم جلد کا ۵۲۲ الموعود دائیں رستہ سے مراد خالص دینی طریق ، دعا اور عبادتیں وغیرہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ہماری جماعت کی ترقی درمیانی راستے پر چلنے سے ہو گی۔یعنی کچھ تدبیر میں اور کوششیں ہوں گی اور کچھ دعا ئیں اور تقدیر میں ہوں گی۔اور پھر یہ بھی میرے ذہن میں آیا کہ دیکھو! قرآن شریف نے اُمت محمدیہ کو اُمَّةً وَسَطاً ۲۹ قرار دیا ہے۔اس وسطی راستہ پر چلنے کے یہی معنی ہیں کہ یہ امت اسلام کا کامل نمونہ ہوگی اور چھوٹی پگڈنڈی کی یہ تعبیر ہے کہ درمیانی راستہ گو درست راستہ ہے مگر اس میں مشکلات بھی ہوتی ہیں۔غرض میں اُس راستہ پر چلنا شروع ہوا اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ دشمن بہت پیچھے رہ گیا ہے۔اتنی دُور کہ نہ اُس کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے اور نہ اُس کے آنے کا کوئی امکان پایا جاتا ہے۔مگر ساتھ ہی میرے ساتھیوں کے پیروں کی آہٹیں بھی کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں اور وہ بھی بہت پیچھے رہ گئے ہیں مگر میں دوڑتا چلا جاتا ہوں اور زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹتی چلی جا رہی ہے۔اُس وقت میں کہتا ہوں کہ اس واقعہ کے متعلق جو پیشگوئی تھی اُس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس رستہ کے بعد پانی آئے گا اور اُس پانی کو عبور کرنا بہت مشکل ہو گا۔اُس وقت میں رستے پر چلتا تو چلا جاتا ہوں مگر ساتھ ہی کہتا ہوں وہ پانی کہاں ہے؟ جب میں نے کہا وہ پانی کہاں ہے تو یکدم میں نے دیکھا کہ میں ایک بہت بڑی جھیل کے کنارے پر کھڑا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس جھیل کے پار ہو جانا پیشگوئی کے مطابق ضروری ہے۔میں نے اُس وقت دیکھا کہ جھیل پر کچھ چیزیں تیر رہی ہیں۔وہ ایسی لمبی ہیں جیسے سانپ ہوتے ہیں اور ایسی باریک اور ہلکی چیزوں سے بنی ہوئی ہیں جیسے جیسے ۳۰ وغیرہ کے گھونسلے نہایت بار یک تنکوں کے ہوتے ہیں وہ اوپر سے گول ہیں جیسے اثر دہا کی پیٹھ ہوتی ہے اور رنگ ایسا ہے جیسے بیے کے گھونسلے سے سفیدی ، زردی اور خا کی رنگ ملا ہوا ہو ، وہ پانی پر تیر رہی ہیں اور اُن کے اوپر کچھ لوگ سوار ہیں جو اُن کو چلا رہے ہیں۔خواب میں میں سمجھتا ہوں یہ بُت پرست قوم ہے اور یہ چیزیں جن پر یہ لوگ سوار ہیں، اُن کے بُت ہیں اور یہ سال میں ایک دفعہ اپنے بتوں کو نہلاتے ہیں اور اب بھی یہ لوگ اپنے بتوں کو نہلانے کی غرض سے مقررہ گھاٹ کی طرف لے جار ہے ہیں۔جب مجھے اور کوئی چیز پار لے جانے کے لئے نظر نہ آئی تو میں نے زور سے چھلانگ لگائی۔