انوارالعلوم (جلد 17) — Page 502
انوار العلوم جلد کا الموعود دیئے اور دشمنانِ اسلام پر ہر طرح اتمام حجت کر دیا۔بشیر اوّل کی پیدائش ان پیشگوئیوں کے شائع ہونے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاں ۷ اگست ۱۸۸۷ء کو ایک لڑکا پیدا ہوا دیکھو اشتہار ۷/ اگست ۱۸۸۷ء) جس کا نام آپ نے بشیر رکھا اور اسے ۱/۸ پریل ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں جو ایک اور لڑکے کی پیشگوئی تھی جو قریب مدت میں پیدا ہونے والا تھا اُس کا مصداق قرار دیا۔۱/۸ پریل ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں پیشگوئی کے یہ الفاظ تھے کہ:۔اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو مدت حمل سے تجاوز نہ کرے گا۔اس سے ظاہر ہے کہ ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اب پیدا ہوگا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں 9 برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا اور پھر اس کے بعد الہام ہوا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تلیں۔۱۶ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ لوگوں کے ان اعتراضات کی وجہ سے کہ ۹ برس میں پیدا ہونے والے لڑکے کے لئے جو مدت مقرر کی گئی ہے وہ بہت لمبی ہے اس عرصہ میں تو کوئی نہ کوئی لڑکا ہو ہی جاتا ہے آپ نے دعا کی تو آپ پر یہ ظاہر کیا گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہو نیوالا ہے۔ایک کا لفظ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں ظاہر فرمایا کہ جولڑ کا قریب ہی ہونے والا ہے وہ وہی 9 سالہ میعاد میں پیدا ہونے والا موعو دلڑکا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ اور ہو۔اس پیشگوئی کی اصل غرض دشمنوں کے اس اعتراض کو دور کرنا تھی کہ لمبی مدت میں لڑکے کا ہونا عجیب بات نہیں پیشگوئی قریب زمانہ کے متعلق ہونی چاہئے۔گو اُن کے اعتراض کا اصل جواب تو یہ دیا گیا کہ جس شان کا لڑکا موعود ہے اس شان کا لڑکا 9 چھوڑ اٹھارہ سال میں بھی اگر ہو جائے تو پیشگوئی کی عظمت میں فرق نہیں آتا لیکن اُن کے اعتراض کو خود اُن کے دعووں کے مطابق ہی رڈ کرنے کے لئے یہ دوسرا طریق اختیار کیا گیا کہ بہت اچھا ! ہم ایک لڑکے کی قریب مدت میں بھی خبر دے دیتے ہیں اس کے بعد تم کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نوٹ بھی اپنی طرف سے لکھ دیا کہ یہ "