انوارالعلوم (جلد 17) — Page 455
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۵۵ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ء) بطور مبلغ گئے ہیں جو پُرانے تجربہ کار آدمی ہیں وہ کوشش بھی کر رہے ہیں اور امید ہے اِنْشَاءَ الله وہاں بھی جلد کامیابی ہو جائے گی۔اس کے بعد مدراس اور پشاور رہ جائیں گے اگر وہاں بھی مشن قائم ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سرحدیں مضبوط ہو جائیں گی۔کوئٹہ کو میں نے پہلے شامل نہیں کیا تھا مگر اب اسے بھی شامل کرنا ہے وہاں بھی مشن کا قائم ہونا ضروری ہے۔وہاں سے بھی افغانستان کو آنے جانے والے قافلے گزرتے ہیں اور اگر وہاں بھی ہمارا مشن ہو تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو تبلیغ ہو سکتی ہے۔اس کے بعد میں مساجد کی تحریک کا ذکر کرتا ہوں۔میں نے اس سال یہ مساجد کی تحریک تحریک کی تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں کافی کامیابی ہوئی ہے۔أمم طاہر احمد مرحومہ کی وفات کے بعد میں نے مسجد مبارک کی توسیع کی تحریک کی تھی اور احباب نے دیکھ لیا ہو گا کہ اب کیسی شاندار مسجد بن چکی ہے۔پہلے تو اندازہ تھا کہ اس پر ۱۲ ۱۳ ہزار روپیہ خرچ آئے گا اور میرا یہ بھی ارادہ تھا کہ بیرونی دوستوں کو بھی اس میں حصہ لینے کا موقع دوں گا۔مگر میں نے عصر کی نماز کے بعد یہ تحریک کی کہ میں چاہتا ہوں اس مسجد کو وسیع کیا جائے اور عشاء کی نماز تک سولہ ہزار کی بجائے قادیان کی جماعت نے ہی ۲۴ ہزار روپیہ جمع کر دیا۔اس تحریک کے نتیجہ میں مسجد مبارک پہلے کی نسبت دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے اور ابھی بعض اور سامان بھی اُس کی وسعت کے ہیں اور خدا تعالیٰ چاہے تو اس سے بھی وسیع ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ اس امر کی ضرورت ہے کہ مسجد اقصیٰ کو وسیع کیا جائے۔چند ہی سال ہوئے ہم نے اس مسجد کو بڑھایا تھا۔شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور نے مہربانی کر کے اپنا مکان انجمن کے پاس فروخت کر دیا جسے مسجد میں شامل کر لیا گیا۔بعض نادانوں نے اُس وقت اعتراض بھی کیا تھا کہ اُنہوں نے مکان بہت مہنگا دیا مگر یہ اعتراض صحیح نہیں۔انہوں نے جو قیمت لی وہ واجبی تھی اور میں سمجھتا ہوں اُنہوں نے اپنا مکان دے کر قربانی ہی کی تھی ورنہ جس مکان میں آدمی ایک عرصہ سے رہ رہا ہو اُسے دے دینا آسان نہیں ہوتا۔اب وہ مسجد بھی تنگ ہوگئی ہے دوسری طرف باہر کے دوستوں کی طرف سے میرے پاس یہ شکایت پہنچتی ہے کہ مسجد مبارک کے چندہ کی تحریک میں انہیں حصہ لینے کا موقع نہیں دیا گیا اب اگر مسجد اقصیٰ میں توسیع کی تحریک کی گئی تو باہر کے دوستوں کو ضرور