انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 376

انوار العلوم جلد ۱۷ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں پس چونکہ اُنہوں نے مذہب کے معنی ایک فقرہ کے کرلئے ہیں اور چونکہ اس ایک فقرہ کے نتیجہ میں اُنہوں نے خدا اور اُس کے رسولوں کو مذہب کی تفصیلات بیان کرنے سے چھٹی دے دی ہے اور اُن کو اس کام سے بالکل معطل کر دیا ہے اس لئے انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ باقی مذاہب بھی کسی ایک لفظ یا کسی ایک فقرہ میں ساری تفصیلات کو بیان کر سکتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ باقی مذاہب کے بھی بعض خلاصے ہیں مگر اُن مذاہب کے پیروؤں سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے اُن خلاصوں کو اتنا پھیلایا نہیں کہ دنیا اُن خلاصوں سے ہی سمجھ سکتی کہ وہ مذاہب دنیا کے سامنے کون سا پیغام لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔مثلاً اسلام کو لے لو۔اسلام بھی کہتا ہے کہ خدا محبت ہے اور اسلام نے بھی اپنے مذہب کا ایک خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے کہ لَا اِلهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله مگر جس طرح عیسائیت نے خدا محبت ہے“ کی تشریح، مختلف جہتوں اور مختلف شعبوں سے مختلف عبارتوں میں انسانی جذبات سے وابستہ کر کے کی ہے اُس طرح کا اِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کی تشریح نہیں کی گئی۔اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب خدا محبت ہے کی ایک چھوٹی سی تشریح بھی کسی نامہ نگار کے سامنے بیان کی جاتی ہے تو وہ متاثر ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ دنیا کے لئے کارآمد باتیں ہیں لیکن اگر تم کسی نامہ نگار کے سامنے یہ کہو کہ میں دنیا کے لئے یہ پیغام لایا ہوں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ تو چونکہ اس کی بار بار اور مختلف پیراؤں سے تشریح نہیں کی گئی اس لئے اس خلاصہ سے تعلق رکھنے والے کئی مضامین کی باریکیاں اُس کی وسعتیں اور اُس کے وسیع دائرے اُس کے ذہن میں نہیں آتے۔وہ حیران ہو جاتا ہے اور وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکتا کہ وہ اسلام جس کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا ایک ہے اور جس کا یہ دعوی ہے کہ محمد رسول اللہ اللہ اس کے رسول ہیں اُس کے اِس فقرہ میں دنیا کے لئے نیا پیغام کونسا ہے۔یہ تو وہی پرانی بات ہے جو ایک لمبے عرصہ سے اسلام کی طرف سے پیش کی جارہی ہے حالانکہ خدا ایک ہے اتنا وسیع مضمون ہے کہ اس کا کروڑواں حصہ بھی اس فقرہ میں بیان نہیں کیا گیا کہ ”خدا محبت ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ ALAA GALA TAN الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کے مقابلہ میں اس فقرہ کی اتنی حیثیت بھی نہیں جتنی ہاتھی کے مقابلہ میں مچھر کی ہوتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ وہ فقرہ یاد کرایا گیا ہے اور یہ فقرہ یاد نہیں کرایا گیا۔اُس فقرہ کے مطالب کو بار بارلوگوں کے سامنے