انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 368

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۶۸ میری مریم تیمارداری کرنے والوں کیلئے دعا مریم بیگم کی بیماری میں سب سے زیادہ شیر محمد خاں صاحب آسٹریلیا والوں کی بیوی اقبال بیگم نے خدمت کی۔اڑھائی مہینہ اس نیک بخت عورت نے اپنے بچوں کو اور گھر کو بھلا کر رات اور دن اِس طرح خدمت کی کہ مجھے وہم ہونے لگ گیا تھا کہ کہیں یہ پاگل نہ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ ان پر اور اُن کے سارے خاندان پر ہمیشہ اپنے فضل کا سایہ رکھے۔پھر ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ہیں جن کو اُن کی بہت لمبی اور متواتر خدمت کا موقع ملا۔شیخ بشیر احمد صاحب نے کئی ماہ تک ہماری مہمان نوازی کی اور دوسرے کاموں میں امداد کی۔میاں احسان اللہ صاحب لاہوری نے دن رات خدمت کی یہاں تک کہ میرے دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ اُن کا خاتمہ بالخیر کرے۔حکیم سراج الدین صاحب بھائی دروازہ والوں نے برا بران کی ہمراہی عورت کا اڑھائی ماہ تک کھانا پہنچایا اور خود بھی اکثر ہسپتال میں آتے رہے۔ڈاکٹر معراج الدین صاحب کو رعشہ کا مرض ہے اور بوڑھے آدمی ہیں اس حالت میں کانپتے اور ہانپتے اور لرزتے ہوئے جب ہسپتال میں آ کر کھڑے ہو جاتے کہ میں نکلوں تو وہ مجھ سے مریضہ کا حال پوچھیں تو کئی دفعہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو دیکھ کر کہ مجھ نا کارہ کی محبت اُس نے کس طرح لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دی ہے، میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔لاہور کے اور بہت سے احباب نے نہایت اخلاص کا نمونہ دکھایا اور بہت سی خدمات ادا کیں۔سیٹھ محمد غوث صاحب حیدر آبادی کے خاندان نے اخلاص کا ایسا بے نظیر نمونہ دکھایا کہ حقیقی بھائیوں میں بھی اس کی مثال کم ملتی ہے۔حیدر آباد جیسے دُور دراز مقام سے پہلے ان کی بہو اور بیٹیاں دیر تک قادیان رہیں اور بار بار لا ہور جا کر خبر پوچھتی رہیں۔آخر جب وہ وطن واپس گئیں تو عزیزم سیٹھ محمد اعظم اپنا کاروبار چھوڑ کر حیدر آباد سے لاہور آ بیٹھے اور مرحومہ کی وفات کے عرصہ بعد واپس گئے۔ڈاکٹر لطیف صاحب کئی دفعہ دہلی سے دیکھنے آئے۔میرے خاندان کے بہت سے افراد نے بھی محبت سے قربانیاں کیں۔مگر ان پر تو حق تھا میں ان لوگوں کو سوائے دعا کے اور کیا بدلہ دے سکتا ہوں۔اے میرے رب ! تو ان سب پر اور ان سب پر جن کے نام میں نہیں لکھ سکا یا جن کا مجھے علم بھی نہیں ، اپنی برکتیں اور فضل نازل کر۔اے میرے رب ! میں محسوس کرتا ہوں