انوارالعلوم (جلد 17) — Page 367
انوار العلوم جلد ۷ میری مریم دوں گی۔مگر قسمت کا پھیر دیکھو کہ دونوں نے ان کی وفات کے بعد یہ بات مجھ سے بیان کی اگر وہ ان کی زندگی میں مجھ سے یہ بات کہتیں تو میرے لئے کتنی خوشی کا موجب ہوتا۔میں ان کے پاس جا تا اور ہاتھ میں ہاتھ لے کر کہتا کہ مریم! تم فکر نہ کرو تم کو نہ خدمت کی ضرورت ہے اور نہ پاؤں دھونے کی۔تمہارے دل میں اس خیال کے آنے سے ہی مجھے میری ساری محبت کا بدلہ مل گیا ہے۔شاید اس سے انہیں بھی تسلی ہوتی اور میرا دل بھی خوش ہو جاتا۔اگر ایک منٹ کے لئے بھی ہم ایک دوسرے کے سامنے اس طرح کھڑے ہو جاتے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھ رہے ہوتے تو یہ لحہ ہم دونوں کیلئے کیسا خوش گن ہوتا۔مگر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا۔شاید ہمارے گناہوں کی شامت ہم سے ایک بڑی قربانی کا تقاضا کر رہی تھی۔عجیب بات ہے کہ باوجود اس قدر لمبی حواس آخری سانس تک قائم رہے بیماری سے مریم بیگم کے حواس منزع کی آخری گھڑیوں تک قائم رہے۔وفات سے دو دن پہلے جب ضعف انتہاء کو پہنچ گیا تھا مجھ سے کہا کہ چھوٹے میز پوش منگوا دیں۔میں نے مریم صدیقہ سے کہا کہ وہ موٹر میں جا کر پسند کر لائیں۔میں نے جب مرحومہ کو میز پوش دکھایا تو غنودگی کی حالت میں انہوں نے کہا کہ اچھا ہے، ایک درجن میز پوش منگوا دیں۔میں نے سمجھا کہ ان کے حواس ٹھیک نہیں رہے کیونکہ ہسپتال کے کمرہ میں تو ایک چائے کی میز تھی۔میں نے کہا بہت اچھا ، بہت اچھا! اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں گھبرا کر باہر آ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد ان کی مصاحبہ کمرہ سے باہر آئی اور کہا کہ بی بی بلاتی ہیں۔میں گیا تو انہوں نے زور سے اپنی غنودگی پر قابو پا لیا تھا مگر ضعف بدستور تھا مجھے اشارہ سے نزدیک کر کے کہا کہ آپ گھبرا گئے ، میں ہوش میں ہوں میں نے ہسپتال کے لئے نہیں بلکہ گھر کے لئے میز پوش منگوائے تھے۔میں سمجھتا ہوں یہ بات ان کے کمزور دل نے بعد میں بنائی۔اصل میں یہی بات تھی کہ وقتی غنودگی ان پر آئی لیکن اس قدر سمجھ تھی کہ میری گھبراہٹ کو تاڑ لیا اور ان کے نفس نے اپنا محاسبہ کر کے معلوم کر لیا کہ میں کوئی غلطی کر بیٹھی ہوں اور اس رنگ میں میز پوشوں کی بات کو حل کیا کہ وہ بات معقول ہوگئی اور پھر مجھے بلا کر تسلی دینے کی کوشش کی۔