انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 353

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۵۳ نہ میری مریم غضب کی ذہانت مریم کچھ زیادہ بھی پڑھی تھیں اور ان کا خط بھی بہت خراب تھا۔غضب کی ذہانت استقلال سے پڑھنے لکھنے کا ملکہ بھی نہ تھا۔صرف چند دن سبق لے کر چھوڑ دیتی تھیں مگر ذہانت غضب کی تھی۔آنکھ سے ، ماتھے کی شکنوں سے ، سانس سے، چال سے، اشارہ سے راز کو اس طرح پالیتی تھیں کہ حیرت آتی تھی۔انسان خیال کرتا تھا کہ انہیں غیب معلوم کرنے کا کوئی نسخہ آتا ہے۔طبیعت سخت حساس تھی۔جہاں طنز مدنظر نہ ہوتی تھی انہیں طنز نظر آتی تھی ، جہاں خنکی کا شاہ بھی نہ ہوتا تھاو و خنکی کے آثار محسوس کرتی تھیں دوسروں سے بڑھ کر بھی ان سے سلوک کرو تو وہ سمجھتی تھیں کہ مجھ سے بے انصافی ہورہی ہے۔یہ معاملہ ان کا مجھ سے ہی تھا اور اسی معاملہ میں آکر ان کی ذہانت بے کار ہو جاتی تھی۔احمدیت پر سچا ایمان مریم کو احمدیت پر سچا ایمان حاصل تھا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر قربان تھیں ان کو قرآن کریم سے محبت تھی اور اس کی تلاوت نہایت خوش الحانی سے کرتی تھیں۔انہوں نے قرآن کریم ایک حافظ سے پڑھا تھا اس لئے ط ، ق خوب بلکہ ضرورت سے زیادہ زور سے ادا کرتی تھیں۔علمی باتیں نہ کر سکتی تھیں مگر علمی باتوں کا مزہ خوب لیتی تھیں۔جمعہ کے دن اگر کسی خاص مضمون پر خطبہ کا موقع ہوتا تھا تو واپسی پر میں اس یقین سے گھر میں گھستا تھا کہ مریم کا چہرہ چمک رہا ہوگا اور وہ جاتے ہی تعریفوں کے پل باندھ دے گی اور کہیں گی کہ آج بہت مزہ آیا اور یہ قیاس میرا شاذ ہی غلط ہوتا تھا۔میں دروازے پر انہیں منتظر پاتا۔خوشی سے ان کے جسم کے اندر ایک تھر تھر ا ہٹ سی پیدا ہو رہی ہوتی تھی۔بہا در دل کی عورت مریم ایک بہادر دل کی عورت تھیں۔جب کوئی نازک موقع آتا میں یقین کے ساتھ ان پر اعتبار کر سکتا تھا۔ان کی نسوانی کمزوری اس وقت دب جاتی، چہرہ پر استقلال اور عزم کے آثار پائے جاتے اور دیکھنے والا کہ سکتا تھا کہ اب موت یا کامیابی کے سوا اس عورت کے سامنے کوئی تیسری چیز نہیں ہے۔یہ مر جائے گی مگر کام سے پیچھے نہ ہٹے گی۔ضرورت کے وقت راتوں اس میری محبوبہ نے میرے ساتھ کام کیا ہے اور تھکان کی شکایت نہیں کی۔انہیں صرف اتنا کہنا کافی ہوتا تھا کہ یہ سلسلہ کا کام ہے یا سلسلہ کے لئے کوئی خطرہ یا بدنامی ہے اور وہ شیرنی کی طرح لپک کر کھڑی ہو جاتیں اور بھول جاتیں