انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 341

۳۴۱ خلافت کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے وابستہ رہو انوار العلوم جلد ۱۷ گلاس کو نہیں دیکھ سکتا تو کیا ہوا مجھے وہ پہلی تو ملی ہوئی ہے جس سے میں اپنے پیدا کرنے والے خدا کو دیکھ سکتا ہوں۔بھلا لوٹے اور گلاس اور رنگ کو دیکھنے میں کیا مزا ہے۔مزا تو یہ ہے کہ انسان اپنے خدا کو دیکھ سکے لیکن آج جب وہ پہلی مجھ سے لے لی گئی ہے ، جب وہ عینک مجھ سے چھین لی گئی ہے تو فَعَمِيَ عَلَيَّ النَّاظِرُ اے لوگو! تم مجھے پہلے اندھا کہا کرتے تھے لیکن حقیقتا میں اندھا آج ہوا ہوں۔مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ میری بیوی بھی ہے ، میرے بچے بھی ہیں اور عزیز اور رشتہ دار بھی ہیں مگر اب مجھے کوئی پروا نہیں کہ اُن میں سے کون مرجاتا ہے جو بھی مرتا ہے مر جائے اُس کی موت میرے لئے اس نقصان کا موجب نہیں ہو سکتی جس نقصان کا موجب میرے لئے یہ موت ہوئی ہے۔فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ - يَارَسُولَ اللهِ ! میں تو اسی دن سے ڈرتا تھا کہ میری یہ بینائی کہیں چھین نہ لی جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قسم کی تاریکیوں سے لوگوں کو نکالا ، جس قسم کی تباہیوں سے عربوں کو بچایا ، جس قسم کی ذلت سے اور رُسوائی سے نکال کر ان کو ترقی کے بلند مقام تک پہنچایا اُس کو دیکھتے ہوئے آپ کے احسانوں کی جو قدرو قیمت صحابہ کے دل میں ہو سکتی تھی وہ بعد میں آنے والے لوگوں کے دلوں میں نہیں ہو سکتی۔مگر پھر بھی دنیا چلی اور چلتی چلی گئی یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت صرف زبانوں پر رہ گئی دلوں میں سے مٹ گئی۔خدا تعالیٰ کا نور کتابوں میں تو رہ گیا مگر دماغوں میں سے جاتا رہا۔دنیا خدا کو بھول گئی اور اُس کی لذتیں دنیا سے ہی وابستہ ہو گئیں۔جس طرح کسی درخت کو ایک زمین سے اُکھیڑ کر دوسری جگہ لگا دیا جاتا ہے اسی طرح خدا کی زمین میں سے لوگوں کی جڑیں اُکھڑ گئیں اور شیطان کی زمین میں جا لگیں، ان کا ماحول شیطانی ہو گیا اور اُن کی تمام لذت اور اُن کا تمام سرور شیطانی کاموں سے وابستہ ہو گیا۔تب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا۔دنیا ان کی بعثت پر حیران رہ گئی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب خدا تعالیٰ کے انعامات کو اس رنگ میں پانے والا کہ وہ قطعی اور یقینی طور پر خدا اور بندے کو آمنے سامنے کر دے کوئی نہیں آ سکتا۔جن لوگوں کی آنکھیں کھلی تھیں انہوں نے حضرت