انوارالعلوم (جلد 17) — Page 253
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۵۳ اہالیان لدھیانہ سے خطاب بیعت کرلوں گا اور جن لوگوں کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ میری پارٹی میں ہیں اُن کا جب کوئی ہیڈ نہ رہے گا تو وہ بھی خود بخود بیعت کر لیں گے۔مگر مولوی صاحب نے کہا ہم خلافت کے قائل ہی نہیں اس لئے یہ صورت منظور نہیں کر سکتے۔مولوی صاحب نے میری اس قربانی کو جو میں جماعت میں اتفاق قائم رکھنے کی غرض سے کرنے کو تیا ر تھا رڈ کر دیا۔میں نے اصرار اور خوشامد سے ان کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا مگر وہ نہ مانے۔آخر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت جماعت میرے ہاتھ پر اکٹھی ہوگئی۔میں وہ شخص ہوں جو ظاہری تعلیم کے لحاظ سے کو را ہوں۔یوں تو میں نے انٹرنس کا امتحان بھی دیا مگر یہ یاد نہیں کہ کوئی امتحان پاس بھی کیا ہو۔پھر دینی تعلیم بھی میں نے کسی مدرسہ میں نہیں پائی اور ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا انتخاب بطور خلیفہ عقل کے خلاف بات ہے اگر عقل سے کام لیا جا تا تو مولوی محمد علی صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب وغیرہ میں سے کوئی خلیفہ ہونا چاہئے تھا۔چنانچہ میرے اپنے ایک برادر نسبتی اور بچپن کے دوست نے مجھے سنایا کہ میں یہ ارادہ کر کے آیا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب یا مولوی محمد احسن صاحب کی بیعت کروں گا اور خود میں نے بھی یہ پیشکش کی تھی جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں مگر خدا کی قدرت کہ جب جماعت کے لوگ جمع ہوئے تو مولوی محمد علی صاحب نے یہ تقریر کرنی چاہی کہ کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہئے مگر جماعت کے لوگوں نے کہا کہ چونکہ جماعت خلافت پر ایمان رکھتی ہے اس لئے اس بارہ میں وہ آپ کی بات سننے کے لئے تیار نہیں۔اِس پر وہ لوگ مسجد سے چلے گئے اور میں جس کی نہ صحت اس قابل تھی اور نہ تعلیم اس کے ہاتھ پر جماعت جمع ہو گئی۔اور یہ لوگ مخالف تھے اور اُس زمانہ کے اخبارات کے فائل گواہ ہیں کہ یہ لوگ خود کہتے ہیں کہ پانچ فیصدی ہی لوگوں نے مرزا محمود احمد کی بیعت کی ہے اور باقی ہمارے ساتھ ہیں اور مالی حالت یہ تھی کہ خزانہ میں صرف ۱۴ آنے تھے اور اٹھارہ ہزار کے بل قابل ادائیگی تھے ایسے حالات میں وہ لوگ جو جماعت میں بارسوخ تھے قادیان کو چھوڑ کر لاہور چلے گئے۔اور اُس وقت وہ آئندہ کے متعلق جو امید میں رکھتے تھے اُس کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ ان میں سے ایک یعنی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے قادیان کے ہائی سکول کی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو یہاں سے جار ہے ہیں لیکن ابھی