انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 248

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۴۸ اہالیان لدھیانہ سے خطاب اپنی رضا کی راہوں پر چلنے کی توفیق دے، ان کو ہدایت دے اور ایمان بخشے۔اس وقت اس جلسہ میں لدھیانہ کے لوگ غالباً بہت کم ہوں گے، زیادہ تر بیرونی لوگ ہیں لیکن اگر یہاں ایک بھی لدھیانہ کا شخص ہے تو میں اُس کے ذریعہ اہل لدھیانہ کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ اے لدھیانہ کے لوگو! تم نے میری مخالفت کی اور میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔تم نے میری موت کی خواہش کی مگر میں تمہاری زندگی کا خواہاں ہوں کیونکہ میرے سامنے میرے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال ہے۔آپ جب طائف میں تبلیغ کے لئے گئے تو شہر کے لوگوں نے آپ کو پتھر مارے اور لہولہان کر کے شہر سے نکال دیا۔آپ زخمی ہو کر واپس آ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اُس نے کہا اگر آپ فرما ئیں تو اس شہر کو اُلٹا کر رکھ دوں۔مگر میرے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ماں باپ، میری جان ، میرے جسم اور میری روح کا ذرہ ذرہ آپ پر قربان ہو، فرمایا کہ نہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔یہ لوگ ناواقف تھے ، نادان تھے اسلئے انہوں نے مجھے تکلیف دی اگر یہ لوگ تباہ کر دیئے گئے تو ایمان کون لائے گا۔کے سواے اہلِ لدھیانہ ! جنہوں نے میری موت کی تمنا کی میں تمہارے لئے زندگی کا پیغام لایا ہوں، ابدی زندگی اور دائمی زندگی کا پیغام۔ایسی ابدی زندگی کا پیغام جس کے بعد فنا نہیں اور کوئی موت نہیں۔میں تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی رضا کا پیغام لایا ہوں جسے حاصل کرنے کے بعد انسان کے لئے کوئی دُکھ نہیں رہتا اور مجھے یقین ہے کہ آج کی مخالفت کل دلوں کو ضرور کھولے گی اور دنیا دیکھے گی کہ یہ شہر انشَاءَ اللہ خدا تعالیٰ کے نور سے منور ہوگا اور میرے کام میں میرا ممد و معاون بنے گا۔میں خدا تعالیٰ سے یہی دعا کرتا ہوں اور اُس کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ ضرور ایسا ہو کر رہے گا۔آج یہاں ہماری مخالفت ہوئی ہے ، ہمیں گالیاں دی گئی ہیں، استہزاء کیا گیا ہے اور بعض لوگوں کو پتھر بھی پڑے ہیں مگر آج سے چار پانچ سال قبل یعنی اِن بُری باتوں کو سننے سے بہت پہلے اللہ تعالیٰ مجھے اس شہر کے متعلق خوشخبری بھی دے چکا ہے۔چار پانچ سال کی بات ہے میں نے رویا دیکھا جس میں کسی بیرونی خیال کا کوئی دخل نہ تھا۔میں نے دیکھا کہ میں لدھیانہ میں ہوں اور ایک ایسے مکان میں ٹھہرا ہوا ہوں جو ایک لمبی سڑک