انوارالعلوم (جلد 17) — Page 236
انوار العلوم جلد ۷ ۲۳۶ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات پر تقریر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ حضرت میر محمد اسحق صاحب کی وفات پر تقریر ( تقریر فرموده ۱۷ / مارچ ۱۹۴۴ء) اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کو ایسا بنایا ہے کہ ہر شخص کو اپنے قریب کی چیزوں کا زیادہ احساس ہوتا ہے اور جو چیز بعید ہوتی ہے اُس کا احساس اس کو کم ہوتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو صحابہ کرام کے لئے وہ ایک موت کا دن تھا مگر جب حضرت ابو بکر فوت ہوئے تو وہ تابعین جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا تھے اور اسلام حضرت ابو بکڑ سے ہی سیکھا تھا اُن کو اس وفات کا شدید ترین صدمہ ہوا ویسا ہی صدمہ جیسا کہ صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا ہوا تھا۔اسی طرح ایک کے بعد ایک زمانہ کے لوگ گزرتے چلے گئے اور جب سارے گزر گئے تو کسی وقت عالم اسلامی کے لئے حسن بصری یا جنید بغدادی کی وفات ایسے ہی صدمہ کا باعث تھی جیسی صحابہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مگر یہ احساس نتیجہ تھا اس بات کا کہ حسن بصری اور جنید بغدادی جیسے لوگ مسلمانوں میں بہت شاذ پیدا ہوتے تھے۔اگر ساری اُمت ہی حسن اور جنید ہوتی تو وہ در داور وہ چُبھن جو ان بزرگوں کی وفات پر بلند ہوئیں یوں بلند نہ ہوتیں۔بدقسمتی سے اکثر لوگ رونا بھی جانتے ہیں، اظہار غم کرنا بھی جانتے ہیں مگر اکثر لوگ خدا تعالیٰ کے لئے زندگی وقف کرنا اور کام کرنا نہیں جانتے یہی وجہ ہے کہ دنیا پر حزن وغم کی چادر پڑی رہتی ہے۔اگر سب کے سب لوگ دین کی خدمت کرتے اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں لگے ہوتے تو دنیا کا عرفان اور علم ایسے بلند معیار پر آ جاتا کہ کسی قابل قدر، خادمِ اسلام کی وفات پر جو یہ احساس پیدا ہوتا ہے اور یہ فکر لاحق ہوتا ہے کہ اب ہم کیا