انوارالعلوم (جلد 17) — Page 204
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۰۴ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اپنے نام سے شائع کر دیتے تھے۔بس اس کی زندگی تک اس سلسلہ نے ترقی کرنی ہے ، مولوی نورالدین صاحب کے مرتے ہی یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔مگر خدا کی قدرت ہے اپنے تمام زمانہ خلافت میں حضرت خلیفہ اول نے ایک کتاب بھی نہ لکھی اور اس طرح وہ اعتراض باطل ہو گیا جو مخالف کرتے رہتے تھے کہ کتابیں مولوی نورالدین صاحب لکھتے ہیں اور نام مرزا صاحب کا ہوتا ہے بلکہ کچی بات تو یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول کا طرز تحریر ہی بالکل اور رنگ کا تھا۔مگر بہر حال لوگوں نے یہ سمجھا کہ حضرت مولوی صاحب تک ہی اس سلسلہ کی زندگی ہے اس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا مگر وہ خدائے واحد و قہار جس نے بانی سلسلہ احمدیہ کو خبر دی تھی کہ تیرا ایک بیٹا ہو گا جو تیرا نام دنیا کے کناروں تک پہنچائے گا اور دین اسلام کی شوکت قائم کرنے کا موجب ہوگا اُس نے مخالفوں کی اِس امید کو بھی خاک میں ملا دیا۔آخر وہ وقت آ گیا جب حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوئی۔اُس وقت جماعت میں اختلاف پیدا ہو گیا۔جماعت کے ایک برسراقتدار حصہ نے جس کے قبضہ میں صدر انجمن احمد ی تھی ، جس کے قبضہ میں خزانہ تھا اور جس کے زیراثر جماعت کے تمام بڑے بڑے لوگ تھے کہنا شروع کر دیا کہ خلافت کی ضرورت نہیں۔خواجہ کمال الدین صاحب جیسے سحر البیان لیکچرار ، مولوی محمد علی صاحب جیسے مشہور مصنف ، شیخ رحمت اللہ صاحب جیسے مشہور تاجر ، مولوی غلام حسین صاحب جیسے مشہور عالم جن کے سرحدی علاقہ میں اکثر شاگرد ہیں ، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب جیسے با رسوخ اور صاحب جائداد ڈاکٹر یہ سب ایک طرف ہو گئے اور اِن لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ایک بچہ کو بعض لوگ خلیفہ بنا کر جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔وہ بچہ جس کی طرف ان کا اشارہ تھا میں تھا۔اُس وقت میری عمر بیس سال کی تھی اور اللہ بہتر جانتا ہے مجھے قطعا علم نہیں تھا کہ میرے متعلق یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ میں جماعت کا خلیفہ بنوں۔اللہ تعالیٰ گواہ ہے نہ میں اِن باتوں میں شامل تھا اور نہ مجھے کسی بات کا علم تھا۔سب سے پہلے میرے کانوں میں یہ آواز شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش ویئر ہاؤس کی طرف سے آئی۔میں نے سنا کہ وہ مسجد میں بڑے جوش سے کہہ رہے تھے کہ ایک بچہ کی خاطر سلسلہ کو تباہ کیا جا رہا ہے۔مجھے اُس وقت اُن کی یہ بات اتنی عجیب معلوم ہوئی کہ باہر نکل کر میں نے دوستوں