انوارالعلوم (جلد 17) — Page 199
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۹۹ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں دیئے۔پھر مجھے وہ نظارہ بھی خوب یاد ہے جبکہ قادیان میں جس کا واحد مالک ہمارا خاندان ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بائیکاٹ کیا گیا اور لوگوں کو آپ کے گھر کا کام کرنے سے روکا گیا ، چوڑھوں کو کہا گیا کہ وہ صفائی نہ کریں، کمہاروں کو کہا گیا کہ وہ برتن نہ بنائیں ، سقوں کو کہا گیا کہ وہ پانی نہ بھریں، نائیوں کو کہا گیا کہ وہ حجامت نہ بنا ئیں قلعی گروں کو کہا گیا کہ وہ آپ کے برتنوں پر قلعی نہ کریں۔غرض نہ کوئی صفائی کرتا ، نہ کوئی قلعی کرتا بڑی مصیبت سے اردگرد کے گاؤں والوں سے اِن ضروریات کو پورا کیا جاتا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دروازے پر آپ کی مسجد کے سامنے دیوار کھینچ دی گئی تا کہ کوئی شخص اس میں نماز پڑھنے کے لئے نہ آسکے۔اسی طرح آپ پر مختلف قسم کے مقدمات دائر کئے گئے اور بڑوں اور چھوٹوں سب نے مل کر چاہا کہ آپ کو مٹا دیا جائے۔یہاں تک کہ ایک پادری نے آپ پر اقدام قتل کا نہایت جھوٹا مقدمہ دائر کر دیا اور ایک شخص کو پیش کیا جو کہتا تھا کہ مجھے مرزا صاحب نے اس پادری کو قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔آخر اسی شخص نے عدالت کے سامنے اقرار کیا کہ مجھے جھوٹ سکھایا گیا تھا تا کہ کسی طرح مرزا صاحب سزا یاب ہوں ورنہ وہ اس الزام سے بالکل بری ہیں۔کرنل ڈگلس جو ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر تھے اُن کے سامنے ہی مقدمہ پیش ہوا اور باوجود اس کے کہ یہ مقدمہ عیسائیوں کی طرف سے تھا اور اس بناء پر تھا کہ مرزا صاحب اسلام کی تائید کرتے اور عیسائیوں کو دجال قرار دیتے ہیں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی عیسائیوں کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف گواہی دینے کے لئے عدالت میں پیش ہوئے۔یہ وہی شخص تھے جنہوں نے کہا تھا کہ میں نے ہی مرزا صاحب کو بڑھایا تھا اور اب میں ہی انہیں گراؤں گا۔مسٹر ڈگلس جن کے سامنے یہ کیس پیش ہوا ( اور جو ۲۵ فروری ۱۹۵۷ء کو لنڈن میں وفات پاگئے ہیں ) پہلے ایسے متعصب عیسائی تھے کہ جب وہ گورداسپور آئے تو انہوں نے آتے ہی اس بات پر اظہار تعجب کیا کہ ابھی تک اس شخص کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا جو اپنے آپ کو مسیح موعود کہتا ہے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بٹالہ میں اُن کے سامنے پیش ہوئے تو