انوارالعلوم (جلد 17) — Page 190
انوار العلوم جلد ۷ 19 + میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں انگریزی حکومت کا دور شروع ہوا تو اُس وقت پھر ہماری خاندانی ریاست کو صدمہ پہنچا اور ہماری وہ جائداد بھی ضبط کر لی گئی جو کسی قدر باقی رہ گئی تھی۔یہ ہمارے خاندان کی حالت تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے سامنے اپنا دعویٰ پیش فرمایا۔اگر ہماری یہ ریاست اپنی پہلی حالت میں قائم ہوتی تب بھی ایک چھوٹی سی ریاست ہوتی اور اتنی چھوٹی ریاست کو بھلا پوچھتا ہی کون ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے اتنی ریاست بھی پسند نہ کی تاکہ اُس کی صفات پر کوئی دھبہ نہ آئے اور لوگ یہ نہ کہیں کہ سابقہ عزت کی وجہ سے انہیں ترقی حاصل ہوئی ہے۔ہمارے دادا کو بڑا فکر رہتا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو کسی ایسے کام پر لگا دیں جس سے وہ اپنا گزارہ آسانی کے ساتھ کر سکے۔مہاراجہ کپورتھلہ کے شاہی خاندان سے بھی ہمارے خاندان کے چونکہ پرانے تعلقات ہیں اس لئے انہوں نے کوشش کر کے بانی سلسلہ احمدیہ کے لئے وہاں ایک معزز عہدہ تلاش کر لیا۔چنانچہ ان کے لئے انسپکٹر جنرل آف ایجوکیشن کے عہدہ کی منظوری آ گئی۔قادیان کے قریب ہی ایک گاؤں ہے وہاں ایک سکھ صاحب رہا کرتے تھے جو اکثر ہمارے دادا کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔انہوں نے خود سنایا کہ میں اور میرا بھائی اکثر بڑے مرزا صاحب سے ملنے کے لئے آ جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ہم دونوں ان سے ملنے کے لئے گئے تو وہ کہنے لگے کہ مرزا غلام احمد کو دنیا کی طرف کوئی توجہ نہیں میں حیران ہوں کہ میرے مرنے کے بعد اس کا کیا حال ہوگا۔میں نے اس کے متعلق کپورتھلہ میں کوشش کی تھی جس کے نتیجہ میں وہاں سے آرڈر آ گیا ہے کہ اِسے ریاست کا افسر تعلیم مقرر کیا جاتا ہے۔میں اگر اسے کہوں تو شاید مجھے جواب نہ دے تم دونوں اس کے ہم عمر ہو تم اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ وہ اس عہد ہ کو قبول کر لے۔وہ سناتے ہیں کہ ہم دونوں بھائی ان کے پاس گئے اور انہیں کہا کہ مبارک ہو ریاست کپورتھلہ کی طرف سے چٹھی آئی ہے کہ آپ وہاں کے افسر تعلیم مقرر کئے گئے ہیں۔آپ کے والد صاحب کی خواہش ہے کہ آپ یہ نوکری اختیار کر لیں اور ریاست کپورتھلہ میں چلے جائیں۔وہ کہتے ہیں جس وقت ہم نے یہ بات کہی اُنہوں نے ایک آہ کھینچی اور کہا والد صاحب تو خواہ مخواہ فکر کرتے ہیں میں نے تو جس کا نوکر ہونا تھا ہو گیا آب میں کسی اور کی نوکری کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔وہ کہتے ہیں ہم دونوں واپس آگئے اور آپ کے دادا صاحب کو کہا کہ