انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xix of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page xix

انوار العلوم جلد کا ۱۲ (۱۰) اہالیان لدھیانہ سے خطاب تعارف کتب دعوی مصلح موعود کے سلسلہ میں تیسرا جلسہ مؤرخہ ۲۳ / مارچ ۱۹۴۴ء کو لدھیانہ میں منعقد ہوا۔اس جلسہ کے انعقاد کے پروگرام کا اعلان ہوتے ہی اس جلسہ کو نا کام بنانے کیلئے مخالفین نے بیان بازی شروع کر دی اور اس جلسہ کو رکوانے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا۔اخبارات و رسائل میں بیان بازی کی ، جلسہ کے روز جلوس نکالے گئے اور جلسہ گاہ کے گرد منڈلاتے رہے غرضیکہ جلسہ کو ناکام بنانے کیلئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے ، دوران جلسہ موسلا دھار بارش ہونے اور سراسر نا موافق حالات کے باوجود یہ جلسہ بڑی کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا جس میں حضرت مصلح موعود نے اپنے روح پرور خطاب کا آغاز ان الفاظ سے فرمایا۔دمیں آج اس جگہ اِس لئے کھڑا ہوا ہوں کہ آج سے ۵۵ سال پہلے اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی خبروں اور اُس کے ارشاد فرمائے ہوئے حکم کے ماتحت اس شہر لدھیانہ میں ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے بیعت لی تھی اور اس بیعت کے وقت صرف چالیس آدمی آپ پر ایمان لانے والے تھے۔یہ ساری کی ساری پونجی تھی جسے لیکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسلام کی فتح کیلئے کھڑے ہوئے تھے باقی تمام دنیا ہندو، عیسائی، سکھ، ہندوستانی ، ایرانی ، عرب، چینی اور برطانوی وغیرہ سب کے سب آپ کے مخالف تھے اور آپ کو مٹادینے پر تلے ہوئے تھے مگر ان مخالفتوں کے باوجود آپ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر دنیا کو بتایا کہ: دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا“۔اس اعلان کے بعد باوجود شدید مخالفتوں کے اللہ تعالیٰ نے آپ کے سلسلہ کو بڑھانا شروع کیا۔ان تمہیدی کلمات کے بعد حضور نے پیشگوئی مصلح موعود پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے دعویٰ