انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 126

۱۲۶ انوار العلوم جلد ۱۷ عورت کو پسلی سے مشابہہ قرار دے کر اُس سے حسن سلوک کرنے کی طرف نہایت لطیف پیرا یہ میں اشارہ کیا ہے۔چنانچہ غور کر کے دیکھ لو دنیا میں جس قدر رشتے پائے جاتے ہیں اُن میں سے صرف عورت کا ہی ایک ایسا رشتہ ہے کہ ایک طرف تو وہ اپنے خاوند کی طرف پوری طرح متوجہ ہوتی ہے اور دوسری طرف اگر اُسے الگ کرو تو وہ الگ بھی ہو جاتی ہے۔ماں بیٹی کا رشتہ کسی طرح ٹوٹ نہیں سکتا، باپ بیٹے کا رشتہ کسی طرح ٹوٹ نہیں سکتا، بھائی بھائی کا رشتہ کسی طرح ٹوٹ نہیں سکتا لیکن خاوند اور بیوی کا رشتہ ایسا ہے کہ وقت آنے پر وہ ٹوٹ بھی سکتا ہے۔بسا اوقات ایک میاں بیوی میں اس سے بھی زیادہ محبت ہوتی ہے جتنی ماں باپ کو اپنے بیٹوں سے محبت ہوتی ہے۔خاوند بیوی پر جان قربان کرتا ہے اور بیوی خاوند پر فدا ہوتی ہے اور وہ اس طرح اپنے خاوند کی طرف جھکی ہوئی ہوتی ہے جیسے پسلیاں دل کی طرف متوجہ ہوتی ہیں اور اگر اُس پر زیادہ سختی کرو تو وہ علیحدہ ہو جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے جسم کا ٹکڑہ ہی نہ تھی۔پس اس حدیث میں رسول کریم اللہ نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ خاوند اور بیوی کے تعلقات جہاں بے انتہا محبت پر مبنی ہوتے ہیں وہاں یہ تعلق ایسا نازک بھی ہے کہ بعض اوقات آپس میں نفرت بھی پیدا ہو جایا کرتی ہے اس لئے عورتوں پر زیادہ سختی نہ کیا کرو۔بیشک عورت کی اصلاح کی کوشش کرو لیکن ایسا نہ ہو کہ تمہاری سختی کی وجہ سے عورت کا دل تمہاری طرف سے پھر جائے اور وہی جو تم پر جان دیتی تھی تمہیں چھوڑنے پر آمادہ ہو جائے۔عورتوں کے متعلق آپ کا عملی نمونہ ای طرح ایک دفعہ جب کہ آپ غزوہ خبیر سے واپس تشریف لا رہے تھے اور آ کی بیوی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے ساتھ تھیں۔راستہ میں اونٹ پرک گیا اور آپ اور حضرت صفیہ دونوں گر گئے۔حضرت ابوطلحہ انصاری کا اونٹ آپ کے پیچھے ہی تھا وہ فوراً اپنے اونٹ سے کود کر آپ کی طرف گئے اور کہنے لگے یَارَ سُولَ اللَّهِ ! میری جان آپ پر قربان آپ کو کوئی چوٹ تو نہیں آئی ؟ جب ابوطلحہ آپ کے پاس پہنچے تو رسول کریم ﷺ نے فرما یا ابوطلحہ ! پہلے عورت کی طرف ، پہلے عورت کی طرف۔وہ تو رسول کریم ﷺ کے عاشق تھے ب آپ کی جان کا سوال ہو تو اُس وقت انہیں کوئی اور کیسے نظر آ سکتا تھا۔مگر رسول کریم علی صلى الله