انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 96

۹۶ انوار العلوم جلد ۱۷ حملہ کرنے کیلئے جمع تھا، مسلمانوں کی کیا حالت تھی؟ اللہ تعالیٰ اس کا قرآن کریم میں ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ولَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَاتِ ، قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنا الله وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُوله ، وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا ايْمَانًا وَتَسْلِيمًا ال فرما تا ہے جب چاروں طرف سے عرب کی قومیں مدینہ پر حملہ کرنے کیلئے جمع ہو گئیں ، جب یہود نے علم بغاوت بلند کر دیا ، جب منافقوں نے طعنے دینے شروع کر دیے کہ اب نجات کی کوئی صورت باقی نہیں رہی اور انہوں نے مسلمانوں کو کہنا شروع کر دیا کہ اگر اس حملہ سے بچنا چاہتے ہو تو مرتد ہو جاؤ تو ایسی نازک حالت میں بھی انہوں نے کہا ان فتنوں سے ہمیں کیا ڈراتے ہو، یہ تو وہی خطرے ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر کیا گیا تھا اور ہمیں بتایا گیا تھا کہ تمہیں ایسے ایسے خطرات پیش آئیں گے اور یہ تو وہی باتیں ہیں جن کی ہمیں پہلے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہوئی تھی اور بتا دیا تھا کہ اسلام پر یہ لوگ ایک دن متحدہ طور پر حملہ کرنے کیلئے آئیں گے۔پس ان دشمنوں کے آنے سے اُن کا ایمان اور بھی بڑھ گیا اور انہوں نے کہا صدق الله ورسوله خدا اور اُس کے رسول نے جو کچھ کہا تھا سچ کہا تھا وما زادَهُمُ الّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا اور اس عظیم الشان فتنہ نے مومنوں کو اگر کسی چیز میں بڑھایا تو ایمان میں ہی بڑھایا۔تو کل ترک عمل کا نام نہیں فرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سب پارس کی طرح تھے کہ آپ جس کو چھوتے اُس کے اندر بھی وہی ایمان پیدا ہو جاتا جو آپ کے اندر تھا مگر یہ ایمان سستی اور غفلت کا نہ تھا۔اب بھی بعض لوگ ایسے نظر آ جائیں گے جو اس قسم کے ایمان کا اپنے منہ سے دعوی کریں گے مگر در حقیقت اُن کا ایمان سستی اور غفلت کا ایمان ہوگا اور بعض لوگ تو اپنی جہالت کی وجہ سے ترک عمل کا نام ایمان اور توکل رکھ لیتے ہیں اور بعض اپنی سستی کو چھپانے کے لئے اس کا نام ایمان رکھ لیتے ہیں۔مثلاً کوئی کام کرنا ہے، بارش آگئی ہے اور اسباب اُٹھا کر کمرہ کے اندر رکھنا ہے تو وہ شستی سے کام لیتے ہوئے اسباب کو تو نہ اُٹھائیں گے اور یونہی منہ سے کہہ دیں گے کہ اللہ خیر کرے گا۔یا بارش کی وجہ سے خطرہ ہے کہ کھیت کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے اور بیوی یا کوئی اور رشتہ دار عورت