انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 47

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) گر گئے اور ان زخموں کی تاب نہ لا کر آپ بیہوش ہو کر گڑھے میں گر گئے۔۲۹ اس کے بعد آپ کے جسم اطہر پر بعض اور صحابہ شہید ہو کر گر گئے اور اس طرح آپ کا جسم لوگوں کی نگاہ سے چُھپ گیا۔مسلمانوں نے آپ کو اِدھر اُدھر تلاش کیا مگر چونکہ آپ نظر نہ آئے اس لئے یہ افواہ پھیل گئی کہ رسول کریم شہید ہو گئے ہیں بعد میں جب صحابہ کی لاشیں نکالی گئیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نظر آگئے آپ اُس وقت صرف بیہوش تھے مگر بہر حال اس افواہ کی وجہ سے تھوڑی دیر کے لئے مسلمانوں کے حواس جاتے رہے۔بعد میں جب انہیں معلوم ہو ا کہ آپ زندہ ہیں تو اُن کی تکلیف جاتی رہی اور وہ بہت خوش ہو گئے۔اس جنگ میں چونکہ ابتداء میں مسلمانوں نے فتح حاصل کر لی تھی اس لئے بعض مسلمان اطمینان سے اِدھر اُدھر چلے گئے اُنہی میں حضرت انس کے چچا بھی تھے۔وہ ایک طرف آرام سے کھجور میں کھاتے پھرتے تھے کہ اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں۔وہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور کہا کہ عمر! کیا یہ رونے کا وقت ہے یا خوشی منانے کا وقت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو فتح دی ہے اور تم رور ہے ہو۔انہوں نے کہا تمہیں پتہ نہیں بعد میں کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگے مجھے تو کچھ پتہ نہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا فتح کے بعد دشمن نے پھر حملہ کر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔وہ انصاری کھجوریں کھا رہے تھے اور اُس وقت اُن کے ہاتھ میں آخری کھجور تھی ، انہوں نے اُس کھجور کی طرف دیکھا اور کہا میرے اور جنت کے درمیان اس کھجور کے سوا اور ہے ہی کیا۔یہ کہتے ہوئے انہوں نے اُس کھجور کو پھینک دیا اور پھر حضرت عمرؓ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے واہ عمر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے اور تم رو ر ہے ہو، ارے بھائی جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گئے ہیں وہی جگہ ہماری بھی ہے۔یہ کہا اور تلوار لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑے ایک ہاتھ کٹ گیا تو انہوں نے تلوار کو دوسرے ہاتھ میں پکڑ لیا اور دوسرا ہاتھ کٹ گیا تو لاتوں سے انہوں نے دشمن کو مارنا شروع کر دیا اور جب لاتیں بھی کٹ گئیں تو دانتوں سے کاٹنا شروع کر دیا ، غرض آخری سانس تک وہ دشمن سے لڑائی کرتے رہے۔بعد میں جب ان کی تلاش کی گئی تو معلوم ہوا کہ دشمن نے ان کے جسم کے ستر ٹکڑے کر دیے تھے اور وہ پہچانے تک نہیں جاتے تھے ، حدیثوں میں آتا ہے کہ یہ صحابی انہی لوگوں میں سے تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضى نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ یہ وہ برکت والے گھر تھے جس کی وجہ سے خدا نے ان کے متعلق یہ فرمایا کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔