انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 535

۶۲ انوار العلوم جلد ۱۶ انسانوں کے درمیان ایسے شریفانہ تعلقات بھی ہو سکتے ہیں۔نظام تو ابتدائے اسلام میں بعض لوگوں کے غلام رہنے کی وجہ ہیں اگر ابتدائے اسلام میں بعض غلام غلام ہی رہے تو اس کے معنے صرف یہ ہیں کہ مسلمان غلاموں سے ایسا حُسنِ سلوک کرتے تھے کہ وہ غلام خود چاہتے تھے ہم پر یہ حکومت کرتے چلے جائیں اور ہم ان کی غلامی میں ہی رہیں کیونکہ ان کی غلامی آزادی سے بدرجہا بہتر ہے مگر یورپ کے پادری دور بیٹھے اعتراضات کرتے چلے جاتے ہیں کہ اسلام نے غلامی کو دور نہیں کیا۔بڑے بڑے جلسوں میں لیکچرار اپنے وقت سے پانچ منٹ بھی زیادہ تقریر کریں تو لوگ شور مچانے لگ جاتے ہیں مگر یہ دل کی غلامی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کا نتیجہ ہی ہے کہ یہاں ہمارے جلسہ میں خواہ سردی لگے ، بھوک لگے ، ہاتھ پاؤں مشکل ہو جائیں پھر بھی لوگ بیٹھے رہتے ہیں اور یہی چاہتے ہیں کہ تقریر جاری رہے۔یہ غلامی آیا اس قابل ہے کہ اس پر اعتراض کیا جائے یا یہ غلامی ایمانوں کو بڑھانے والی ہوتی ہے۔یہ غلامی بندوں کی نہیں ہوتی بلکہ خدا تعالیٰ کی ہوتی ہے۔غرض کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اب تو دنیا آگے نکل گئی ہے اس نے غلامی کو مٹا دیا ہے کیونکہ اسلام نے شروع سے ہی غلامی کو کلی طور پر مٹا دیا ہے۔ہاں جنگی قیدی بنانے کی اس نے اجازت دی ہے مگر ان کے بارہ میں بھی وہ قواعد بنائے کہ اب تک بھی دنیا ان سے پیچھے ہے۔اس وقت نہ اتحادی ان قواعد پر عمل کرنے کو تیار ہو سکتے ہیں نہ محوری " ان قواعد پر عمل کرنے کو تیار ہو سکتے ہیں۔لوگوں پر ظلم روا رکھنے کے متعلق بعض فلسفیانہ نظریے خلاصہ یہ کہ اسلام نے غلامی کو یکسر مٹا دیا ہے۔اب رہا وہ دُکھ جو باطنی غلامی سے پیدا ہوتا ہے یعنی غربت یا ماتحتی کی وجہ سے، اس کا علاج بھی اسلام نے کیا ہے مگر اس علاج کو سمجھنے سے پہلے یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا کے امتیازی فرق بعض فلسفی نظریوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ نظریے یہ ہیں۔پہلا نظریہ اول بعض کہتے ہیں کہ دنیا میں جس کا زور چلتا ہو وہی لے جاتا ہے اس لئے ہمیں بھی اسی پر عمل کرنا چاہئے۔انگریزوں کا زور چلا تو انہوں نے کئی ملکوں پر قبضہ کر لیا، اسی طرح جب اٹلی نے ایسے سینیا پر حملہ کیا تو مسولینی نے ایک تقریر کی جس میں کہا کہ ہم نے یہ حملہ محض ایسے سینیا والوں کی خدمت کرنے کے لئے کیا ہے اور اس اقدام سے